خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 236

خطبات محمود جلد ۴ ۲۳۶ (۵۰) بغاوت اور سرکشی سے بیچ کر ہی اتفاق قائم رہ سکتا ہے۔(فرموده ۴۔دسمبر ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی :۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَأَى ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمَنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ اس کے بعد فرمایا:۔نعمتوں کا ضائع کرنا آسان ہوتا ہے مگر ان کا حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے۔آنکھ ہوتی ہے۔انسان کیلئے کیسی مفید چیز ہے جو کہ ایک تھپڑ مار کر نکال دی جاسکتی ہے، چھوٹی سی سوئی چبھو کر پھوڑی جاسکتی ہے۔لیکن پھر اگر ساری دنیا کے ڈاکٹر مل کر بھی اس کو بنانا چاہیں تو نہیں بنا سکتے۔اور اگر کوئی بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اپنی تمام بادشاہت دے دے تو بھی ایک پھوٹی ہوئی آنکھ نہیں بن سکتی۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی تمام نعمتوں کا حال ہے۔اللہ تعالیٰ کے سواوہ اور کوئی دیتا نہیں اور نہ کوئی دے سکتا ہے مگر باوجود اس کے بہت لوگ ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتے۔جب تک کسی کی آنکھیں درست ہوتی ہیں وہ معمولی بات سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ سب لوگوں کی آنکھیں ہیں میری بھی ہیں تو کیا ہوا لیکن جب جاتی رہتی ہیں تو رونے لگتا ہے۔اسی طرح کان، ناک ، ہاتھ ، پاؤں وغیرہ ہیں جن کے متعلق اس کو خیال بھی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ بھی کوئی چیزیں ہیں لیکن جب یہ نہیں رہتے تو پیٹنے لگتا ہے۔