خطبات محمود (جلد 4) — Page 14
خطبات محمود جلد ۴ ۱۴ (۵) سال ۱۹۱۴ء اللہ تعالیٰ رب العلمین ہے ال (فرمودہ ۲۔جنوری ۱۹۱۴ ء بمقام قادیان) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ رب العلمین ہے اس کے بڑے بڑے رحم انسان کے اوپر ہیں۔کوئی ایسا انسان نہیں جو گن سکے کیونکہ ہر کام میں انسان اس کا محتاج ہے۔عمر بھر کے احسان کجا صرف صبح سے شام تک جو احسان اللہ تعالیٰ انسان پر کرتا ہے وہ بھی کوئی گنے بیٹھے تو نہیں گن سکتا اور پھر ہزاروں احسان تو ایسے ہیں کہ انسان خود بھی نہیں سمجھ سکتا۔مثلاً بیسیوں بیماریاں ہیں جو خود بخود پیدا ہوتی ہیں اور خود بخود اللہ تعالیٰ کے فضل سے دور ہو جاتی ہیں۔میں نے تجربہ کار ڈاکٹروں سے سنا ہے کہ جب انہوں نے کسی انسان کا پوسٹ مارٹم کیا تو معلوم ہوا کہ اسے سل ہوئی تھی جو اندر ہی اندر اچھی ہوگئی۔یہ تو اس قسم کی بیماریوں کا حال ہے جو اپنا نشان پیچھے چھوڑ جاتی ہیں مگر کئی بیماریاں ایسی ہیں جو اپنا نشان نہیں چھوڑ تیں۔کیا معلوم کہ وہ کس تعداد میں پیدا ہوئیں اور کب اللہ تعالیٰ کے فضل نے انہیں دور کر دیا اسی طرح انسان کو بڑھاپے میں احتیاجیں ہیں۔پھر جوانی میں ، پھر اس سے پہلے بچپن میں ، پھر اس سے پہلے ماں کے پیٹ میں ، ان سب کو اللہ تعالیٰ کے احسان نے ہی پورا کیا ہے۔پھر ماں کے پیٹ سے پہلے انسان جس حالت میں تھا پھر اس سے پہلے جسے ماں باپ بھی نہیں جانتے ان سب حالتوں میں بھی خدا ہی کے فضل سے انسان اس موجودہ حالت تک پہنچا ہے۔خیر ! یہ تو پوشیدہ احسانات ہیں ظاہری احسانات کو بھی انسان اگر گننا چاہے تو نہیں گن سکتا۔باوجود اس کے بہت سے لوگ