خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 219

خطبات محمود جلد ۴ ۲۱۹ سال ۱۹۱۴ء غرضیکہ کوئی عذاب کا ایسا طریق نہیں جو باقی رہا ہو۔ دین برباد ہو رہا ہے، روحانیت تباہ ہو رہی ہے، حکومتیں مٹ رہی ہیں، عزتیں کھوئی جا رہی ہیں ، مال و دولت لوٹی جا رہی ہے تو ایسے وقت میں بھی اگر کوئی انسان اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرتا تو اور کون سا وقت آئے گا جبکہ وہ کرے گا۔ تم خوب یا درکھو کہ آج کل عذاب کے دن ہیں ۔ ان دنوں میں انسان کو خدا تعالیٰ کے حضور بہت زیادہ گرنا چاہئیے ۔ قادیان کے قریب ہی طاعون ہے اور سخت ہے اسے یہاں آتے ہوئے بھی دیر نہیں لگتی۔ لیکن تمہارے پاس ایک ہتھیار ہے ۔ اس کو اگر تم چلاؤ تو وہ کبھی یہاں آنے کا نام بھی نہیں لے سکتی ۔ وہ استغفار کا ہتھیار ہے۔ اگر کامل اصلاح کر کے توبہ میں لگ جاؤ تو اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ پھر ہم عذاب نہیں دیتے ۔ اللہ تعالیٰ سے سچا تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا ۔ دنیا کی حکومتیں وعدہ کرتی ہیں تو لوگ خوش ہو جاتے ہیں۔ اور جب خدا تعالیٰ وعدہ کرے تو پھر کیوں بندہ خوش نہ ہو ۔ سو تمہارے پاس ایسا ہتھیار ہے جو کسی حکومت اور کسی زبردست سے زبردست انسان کے پاس نہیں ہے۔ حکومتیں ہزار ہا روپے صرف کر چکی ہیں۔ ڈاکٹروں نے بڑی بڑی عمریں اس پر صرف کر دی ہیں کہ طاعون کا علاج معلوم ہو۔ لیکن جب آتی ہے تو کسی کی اس کے سامنے پیش نہیں جاتی۔ مگر تمہاے پاس وہ علاج ہے کہ اگر تمام دنیا اس کو استعمال کرے تو ساری دنیا پر ہی طاعون کا نام و نشان نہ رہے اور وہ علاج استغفار ہے۔ یہ ایک ایسا ٹیکہ ہے کہ جو انسان لگائے اس کے قریب بھی طاعون نہیں آسکتی پھر جس جگہ کے لوگ لگائیں وہاں بھی نہیں آسکتی ۔ پھر جس ملک کے لوگ لگا ئیں وہاں بھی نہیں آسکتی ۔ پھر ساری دنیا لگائے تو یہ دنیا سے ہی معدوم ہو سکتی ہے اور یہی ایک بلانہیں جو آج کل نازل ہو رہی ہے۔ بلکہ قحط بھی پڑ رہا ہے اگر چہ قریبا چار ماہ سے غلہ ہندوستان سے باہر نہیں جاتا لیکن پھر بھی گرانی بہت بڑھ گئی ہے۔ اور گورنمنٹ قحط الاؤنس دے رہی ہے اور اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ کیوں غلہ مہنگا ہو رہا ہے۔ یہ تو ظاہری ابتلاء ہیں ۔ جو اس وقت پوشیدہ ہیں مگر ظاہر ہونے والے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت احمدیہ کی نسبت لکھا ہے کہ اس کو زلزلے پر زلزلے آئیں گے۔ بہت مضبوط دل والے انسان قائم رہیں گے۔ اور کمزور دل والے تو کہہ اُٹھیں گے کہ ( نَعُوذُ بِالله ) یہ سلسلہ ہی چھوٹا ہے۔ دیکھو ایک دو زلزلے ہی کیسے خطرناک آئے ہیں کہ کئی لوگ علیحدہ ہو گئے ہیں۔ پھر چند دنوں سے میں متواتر دیکھ رہا ہوں کہ کچھ ابتلاء آنے والے ہیں ۔ قریباً مہینہ ہونے کو ہے کہ }