خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 210

خطبات محمود جلد ۴ ۲۱۰ سال ۱۹۱۴ء میں گرے ہوئے ہیں لیکن عیسائی اپنی رعایا کوسکھ دینے اور دکھ دور کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔مسلمان اپنے محلوں میں بیٹھے اپنے لئے روپیہ جمع کرتے اور عیش و عشرت میں دن رات گزارتے ہیں۔اس لئے وہ جو ازل ہے سے مقدر ہو چکا ہے اس کا ظہور ہو چکا ہے۔اور اب اس خدائی فیصلہ کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔چند دن ہی ہوئے کہ مجھے ایک خط آیا ہے جس میں لکھا ہوا تھا کہ آپ کا ٹریکٹ پڑھا ہے ( یہ بنگالی زبان میں لکھا ہوا تھا) جس میں آپ نے لکھا کہ مسیح اور مہدی آگیا لیکن جب تک قسطنطنیہ کی بادشاہت تباہ نہ ہوئے اس وقت تک مسیح اور مہدی نہیں آسکتا۔اس خط کو آئے ہوئے ابھی پانچ ہی دن ہوئے تھے کہ خدائی حکم صادر ہو گیا کہ لوجو یہ مسلمانوں کی نام کی حکومت باقی تھی اس کو بھی ہم مٹا دیتے ہیں۔سو یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا ہے اور خدا کا غضب ہے جو مسلمانوں پر نازل ہونے والا ہے۔وہ انسان بڑا احمق ہے جو خدائی فیصلہ پر اعتراض کرتا ہے اور وہ انسان ہے جو خدا کے حکم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے؟ خدا تعالیٰ نے جو کچھ کیا ہے انصاف سے کیا ہے اور ترکوں سے جو ان کی نادانی کی وجہ سے سلوک ہونے والا ہے وہ اس کے پورے طور پر حقدار تھے۔ایک بزرگ لکھتے ہیں کہ بغداد کی تباہی اور بربادی کے وقت شہر کے امراء اور رؤسا ایک ولی اللہ کے پاس گئے اور کہا کہ شہر کو تباہی سے بچنے کے لئے دعا کرو۔انہوں نے فرمایا کہ میں دعا کیا کروں مجھے تو آسمان سے آواز آ رہی ہے کہ يَا أَيُّهَا الكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَارَ اے کا فرو! فاجروں کو قتل کرو۔پس وہ خدا جس نے اس وقت فاجر مسلمانوں کو کفار کے ہاتھوں قتل کروادیا تھا وہی آج کل کے فاجروں کو کافروں سے قتل کروانے کا منشاء رکھتا ہے کیونکہ یہ اس کے دین کیلئے روک کا موجب ہورہے ہیں۔دیکھو عیسائی ملکوں میں جس آزادی کے ساتھ عیسائی مذہب کی تردید ہو سکتی ہے ایسی مسلمانوں کے ملکوں میں نہیں ہو سکتی۔ترکوں کی حکومت میں کسی کو اجازت نہیں کے کہ عیسائیوں کے خلاف کچھ کہے یا لکھے۔عیسوی مذہب کے خلاف لکھنے والے سزائیں پاتے اور ان کی کتابیں ضبط کر کی جاتی ہیں۔لیکن خیال کرو کہ انگریزوں کی حکومت میں ہم کس آزادی سے عیسائیت کی تردید کرتے ہیں اور کتابیں لکھتے ہیں اور خواہ انہی کے ہاتھوں میں کتابیں دی جائیں تو بھی وہ برا نہیں مناتے۔بلکہ سنجیدہ اور فہیم لوگ اسلام کی سچائی کو قبول بھی کرتے ہیں۔اور جب تک کوئی شخص جوش غضب سے اندھا ہو کر ان کے مذہب پر حملہ نہ کرے وہ کچھ نہیں کہتے۔اسلامی حکومتوں میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔آج