خطبات محمود (جلد 4) — Page 209
خطبات محمود جلد ۴ ۲۰۹ سال ۱۹۱۴ء مخلوق کی باگ ظالم لوگوں کے ہاتھوں میں دے دے۔سواب مسلمانوں نے اپنی کرتوتوں اپنی بداعمالیوں اپنی شرارتوں اور اپنی خباثتوں سے خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکا دیا ہے اور اب منشائے الہی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک مسلمانوں کی جو نام کی حکومت تھی وہ بھی نہ رہے اور یہ اس لئے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی نا فرمانیاں کرنے والوں کے تباہ ہونے کے کئی ایک نمونے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے کئی سلطنتوں کو ذلیل و خوار ہوتے دیکھا ان کیلئے بڑا موقع تھا کہ یہ ان سے عبرت حاصل کرتے۔خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کرتے۔قرآن شریف کی طرف لوٹتے۔مگر یہ اپنی بدکاریوں سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے بلکہ آگے بڑھتے سوخدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ صادر ہو گیا اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام کی حکومت بھی دنیا سے اُٹھ جائے گی پھر مسلمانوں کی وہی حالت ہو جائے گی جو کہ اس وقت یہودیوں کی ہے۔مسلمان ذلیل اور خوار ہوتے رہیں گے۔اس وقت یہ خدا تعالیٰ پر کسی قسم کا اعتراض کرنے کے حقدار نہیں ہوں گے کیونکہ خدا نے ان کو بڑے موقع دیئے اور بڑے بڑے نظارے ان کو دکھائے اور بار ہا ان سے درگزر کیا اور کئی دفعہ ان کو متنبہ کیا کہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو لیکن یہ اندھوں کی طرح ان نظائر سے گزرتے گئے اور کچھ پرواہ نہ کی اور خدا کے حکموں کو پس پشت ڈال دیا اس لئے اب ان کی حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جو ان کی حکومت اس وقت تک قائم ہے اس کو بھی مٹا دیا جاوے۔موجودہ وقت کے پیدا شدہ اسباب سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی مرضی ہے کہ ان ظالم ہاتھوں سے حکومت لے کر امن دینے والے ہاتھوں کو دے دی جائے۔اہل یورپ نے باوجود عیسائی ہونے کے دنیا سے نیک سلوک کیا۔چنانچہ یورپین قوموں کے تحت جو رعایا ہے وہ بہت آرام اور آسائش میں ہے لیکن وہ جو مسلمان کہلانے والے ہیں ان کی رعایا کو کوئی آرام نہیں۔ان مسلمانوں کے اخلاق اور اعمال گندے ہو گئے ہیں۔اور وہ جو خلیفتہ المسلمین کہلاتے ہیں انکی نسبت عیسائی لوگ رعایا کیلئے بہت زیادہ مفید اور مہربان ہے ہیں۔مذہب کو ایک طرف رہنے دو۔کچھ اخلاق ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں سارے انسان مشترک ہو سکتے ہیں۔اسی لحاظ سے عیسائی بادشاہوں اور امراء کی حالت کا مقابلہ مسلمان بادشاہوں اور امراء سے کرو اور دیکھ لو کہ ان کے عیسائی بادشاہوں کی حالت ان سے بدرجہا اچھی اور اعلیٰ ہے۔جس قسم کی بدکاریاں ان مسلمان بادشاہوں اور امراء میں پائی جاتی ہیں عیسائی بادشاہوں اور امراء میں وہ نہیں ہیں۔مسلمان غفلت اور خود فراموشی کے گڑھے