خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 200

خطبات محمود جلد ۴ ۲۰۰ (۴۴) ہر قسم کے شرک اور بد عملی سے بچتے رہیں فرموده ۲۳ اکتوبر ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی :۔ وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي لَا إِلَّا اللَّهَ الْقُرْبَى وَالْيَمى وَالْمَسْكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَآتُوا الزَّكوة ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ اس کے بعد فرمایا:۔ پچھلی آیات میں خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی کچھ صفات رذیلہ بیان فرمائی تھیں۔ ان کی ایک اور کی صفت بیان فرماتا ہے کہ یہ لوگوں کو ایسی باتیں بتاتے ہیں جو کہ ان کی مذہبی کتاب میں نہیں پائی جاتیں۔ایک ایسی جماعت ہے جو کہ مسیح کو خدا کا بیٹا کہتی ہے، روح القدس کو خدا کا شریک ٹھہراتی ہے، اپنے انبیاء اء اخبار اور رہبان کو خدا کی صفات میں شریک سمجھتی ہے۔ حالانکہ ان کی کتاب میں یہ عہد لیا گیا تھا کہ ہم خدا کے سواکسی کی عبادت نہ کریں گے اور اس کو ایک خدا یقین کریں گے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے بنی اسرائیل سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ خدا کے سوا کسی کی پرستش نہیں کریں گے لیکن باوجود اس کے انہوں نے نبیوں کی قبروں پر سجدے کرنے شروع کر دیئے ۔ اب یہی باتیں جو خدا تعالیٰ نے یہود وغیرہ کے متعلق بیان فرمائی تھیں مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہود سے تو صرف عہد ہی لیا گیا تھا کہ تم خدا کے سواکسی کی عبادت نہ کرنا لیکن مسلمانوں