خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 199

خطبات محمود جلد ۴ ۱۹۹ سال ۱۹۱۴ء نجات کا موجب بنا دیتا ہے۔تم جو احمدی کہلاتے ہو یہ کبھی مت خیال کرو کہ ساری دنیا دوزخی ہے۔اور صرف ہم احمدی نجات پائیں گے۔اس میں شک نہیں کہ جو سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اس کی نجات ہوتی ہے۔لیکن یہ خیال کرنا کہ ہم چونکہ احمدی ہو چکے ہیں اس لئے خواہ کچھ ہی کرتے جائیں ہمیں کوئی نہیں پکڑے گا۔یہ بالکل غلط خیال ہے۔اور یہ خوب یا درکھو کہ ہمیشہ سے نیک اعمال ہی خدا تعالیٰ کے فضل کے جاذب رہے ہیں۔اس لئے نیک اعمال کے لئے کوشش کرو۔سستی ،غفلت اور لا پرواہی کو چھوڑ دو۔کتنا بڑا کام ہے جس کے کرنے کے تم ذمہ دار ہو۔پچھلے دنوں ایک چھوٹا سا فتنہ اپنے میں سے اٹھا تھا اور ابھی تک دور نہیں ہوا تم میں سے کتنے ہیں جو اس فساد کے دور ہونے کیلئے دعائیں کرتے ہیں۔یہ تو ایک بہت معمولی سا کام ہے لیکن کتنے ہیں جو اتنے بڑے عظیم الشان فرائض کی بجا آوری کی فکر میں ہیں۔سن لو اور دل کے کانوں سے سن لو کہ انعام ہمیشہ کام کرنے والوں کو ہی ملا کرتا ہے یوں کسی بات کا دعوی کر لینے سے کبھی کچھ نہیں ملا۔پس تم احمدی ہونے سے نہیں بلکہ احمدیت کے شرائط پورے کرنے سے نجات پاسکتے ہو۔اور اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکتے ہو۔تمہارا کام اتنا عظیم الشان ہے کہ اگر خدا کی نصرت اور مددکا یقین نہ ہو تو انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔ایک سے دو سے مقابلہ نہیں بلکہ احمد یوں کا تمام دنیا سے مقابلہ ہے اور اربوں ارب مخالفین سے تھوڑے سے نفوس کی جنگ ہے۔پس تم اسی طرح ترقی کر سکتے ہو کہ ہمت اور کوشش کرو۔دعاؤں سے کام لو پھر تم اسلام کی اسی شان وشوکت کو دیکھ سکتے ہو جو صحابہ کرام کے وقت تھی۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا تم سے یہی وعدہ ہے۔پس تم ایمان اور اعمال حسنہ میں ترقی حاصل کرو تا کہ کامیاب ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی توفیق دے اور اپنے فضل و کرم سے ہمارے اعمال کو ایسے بنا دے کہ وہ خدا کے فضل کے جاذب ہو جائیں۔ورنہ ہم بہت کمزور ہیں۔ل البقرة: ۸۲،۸۱ الفضل ۲۲۔اکتوبر ۱۹۱۴ء) گلدسته کرامات از مفتی غلام سرور صاحب صفحہ ۳۸ مطبوعہ مفید عام پریس لاہور ۱۳۱۳ھ