خطبات محمود (جلد 4) — Page 198
خطبات محمود جلد ۴ ۱۹۸ سال ۱۹۱۴ء ہماری طرف سے جواب دہی کریں گے۔جب یہ خیال ہوا تو پھر جو چاہیں کرتے رہیں۔چوریاں کریں ، ڈاکے ماریں، زنا کریں فسق و فجور پھیلائیں، کسی کا ڈر ہی کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان با وجود آبادی کے لحاظ سے کم ہونے کے قید خانوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ان پیروں فقیروں سے اُتر کر مولوی لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے جو گناہ گار ہوں گے وہ تھوڑے دنوں عذاب میں رہ کر چھوٹ جائیں گے لیکن باقی تمام لوگ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں پڑے رہیں گے۔اس کا بھی وہی مطلب ہے جو یہودیوں کے کہنے کا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہزاروں ہزار رحمتیں نازل ہوں مسیح موعود علیہ السلام پر کہ انہوں نے ہمیں اس اعتقاد سے چھڑا کر سیدھا راستہ بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔اس کے دل میں کسی قوم یا کسی مذہب کی طرف سے بغض نہیں کہ خواہ مخواہ اس کو دوزخ میں جھونکے رکھے۔دوزخ تو خدا تعالیٰ نے علاج کی جگہ بتائی ہے۔جس طرح گور نمنمیں ریفارمیٹری( REFORMATORY) سکول بناتی ہیں اسی طرح دوزخ ہے۔جس وقت انسان گندے مواد جل کر پاک وصاف ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کو اس سے نکال دیتا ہے۔باقی رہا یہ کہ صرف خدا دوزخ دکھا کر ہی مسلمانوں کو بہشت میں داخل کر دے گا یہ محض جھوٹ اور کذب ہے۔ایک مسلمان بد کار کو اسی طرح سزا دوزخ میں ملے گی۔جس طرح کسی اور مذہب کے بد کار کو جس کو اس کی خطاؤں نے گھیر لیا ہو گا۔پس ایسے لوگ ضرور دوزخ میں رہیں گے کیونکہ یہ دوزخ کے ہی قابل ہیں۔خواہ کتنے بڑے اعلیٰ خاندان اور نسل کے ہوں لیکن بد کار ہونے کی صورت میں اپنی بدکاری کی وہ ضرور سزا پائیں گے۔بشرطیکہ وہ تو بہ نہ کرلیں۔یعنی تو بہ کر کے ایمان لے آئیں اور عمل اچھے کریں۔پس جس وقت ان کی یہ حالت ہو جائے گی تو ایسے لوگ جنت کے وارث ہو جائیں گے اور اسی میں رہیں گے۔یہ بات خوب یاد رکھو کہ اسلام میں نجات خدا تعالیٰ کے فضل پر ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل کے جاذب نیک اعمال ہوتے ہیں۔اور اگر کوئی کہے کہ فضل کا واسطہ کیوں رکھا ہے اور کیوں نیک اعمال کی وجہ سے نجات نہیں ہو جاتی۔تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان سے کچھ نہ کچھ غلطیاں بشریت کی وجہ سے سرزد ہو جاتی ہیں۔اگر ان پر خدا تعالیٰ گرفت کرنے لگے تو کسی انسان کا نجات پانا محال ہو جائے۔تو ایسی غلطیاں جو بشریت اور انسانی کمزوری کی وجہ سے انسان سے ہو جاتی ہیں خدا تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے ڈھانپ دیتا ہے اور اپنے فضل کو انسان کی