خطبات محمود (جلد 4) — Page 193
خطبات محمود جلد ۴ ۱۹۳ سال ۱۹۱۴ء یقین ہو گیا تھا کہ اتنے مجمع میں پے در پے دہراتا تھا۔لوگ جھوٹی آیتیں، حدیثیں ، اور معجزے بنا لیتے ہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ہماری جماعت میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے کہ بعض لوگ بڑی جرات سے قرآن شریف کی آیات کے معنی کر لیتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔اس میں شک نہیں کہ قرآن شریف میں غور اور تدبر کرنا عمدہ بات ہے اور جولوگ اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں وہ تباہ ہو جاتے ہیں مگر جو دل میں معنی آئیں وہی کر دینے یہ بھی ہرگز درست نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس لئے آئے تھے کہ لوگ یہودی خصلت ہو گئے تھے اور آپ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی منشاء کے تحت ہماری جماعت قائم ہوئی ہے۔لیکن ہمارے لئے بھی بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔جہاں تک ہو سکے قرآن شریف کے معنی کرنے میں احتیاط کرو۔آنحضرت سلیم کے بتائے ہوئے معنی اور افعال کے خلاف ہرگز کسی آیت کے معنے نہیں کرنے چاہئیں۔پھر صحابہ کرام کا جن معنوں پر اتفاق ہوان کے خلاف نہیں ہونا چاہئیے۔پھر جو معنے لغت کے خلاف ہوں ان کے بیان کرنے کی بھی جرات نہیں کرنی چاہئیے۔یہ قرآن شریف کے معنے کرنے کے قواعد ہیں ان کے مطابق معنے ہونے چاہئیں۔بعض کم عقل کہتے ہیں کہ خُدا صرف ونحو کے قواعد کا پابند نہیں۔گو خدا تعالیٰ کو صرف و نحو کی ضرورت نہیں لیکن ہمیں تو ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے لغت اور قواعد زبان کے ماتحت کلام نازل نہیں فرمایا تو ہم کس طرح اس کو سمجھ سکتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ وہ کلام جو ہمارے لئے نازل کیا گیا ہے وہ انہی قواعد کو مدنظر رکھ کر اتارا گیا ہو۔جو کہ ہم جانتے ہوں اور سمجھ سکتے ہوں۔قرآن شریف کے معنے کرنے میں ان باتوں کا لحاظ رکھو کہ (۱) آیت کی تفسیر جو دوسری آیت نے کر دی ہے اسکو مد نظر رکھو (۲) آنحضرت مصلی یا تم نے جس آیت کے معنے فرمائے ہیں ان کو مانو (۳) اس تفسیر کو مانو جو کوئی اللہ کا مامور کرے اور الہام کے ذریعے اُسے جو کچھ بتایا گیا ہو (۴) پھر جن معنوں پر صحابہ کی کثرت رائے ہو (۵) پھر اپنے قیاس کے ماتحت معنی کر ولیکن اس میں لغت اور صرف ونحو کا بڑا لحاظ رکھو اور کبھی اپنی طرف سے زائد بات نہ ملاؤ کیونکہ ایسا کرنا خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکا دیتا ہے۔یہ یہود کی صفت ہے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے ہماری اصلاح کی ہے۔اس لئے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان قواعد سے سیر مو ہے ادھر اُدھر نہ ہونا۔کیونکہ ایسے لوگ ذلیل ہو جاتے ہیں جو خدا کے کلام کے جھوٹے معنے کرتے ہیں۔