خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 183

خطبات محمود جلد ۴ ۱۸۳ سال ۱۹۱۴ء لے آؤ۔ انہوں نے وہاں پہنچ کر اس عورت سے کاغذ مانگا تو اس نے انکار کر دیا بعض صحابہ نے کہا کہ شاید رسول کریم کو غلطی لگی ہے۔ حضرت علی نے کہا نہیں آپ کی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔ جب تک اس سے وہ کاغذ نہ ملے میں یہاں سے نہ ہٹوں گا ۔ انہوں نے اس عورت کو ڈانٹا تو اس نے وہ کاغذ نکال کر دے دیا ہے۔ تو منافق خواہ کتنا ہی چھپائے وہ ظاہر ہو ہی جاتا ہے اور وہ خود بخود ذلیل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ منافقوں نے آپس میں ایک دوسرے کو کہا کہ تم اپنے دل کی باتیں مسلمانوں کو کیوں بتاتے ہو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کو تقویت حاصل ہو جائے گی اور وہ ہمیں نقصان پہنچائیں گے۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ منافق ایک دوسرے کو ڈانٹتے ہیں کہ کسی کو کوئی بات نہ بتانا لیکن خود انہیں مجبور ابتانی ہی پڑتی ہے۔ مومن ہمیشہ بہادر اور دلیر ہوتا ہے۔ نفاق خطرے اور ڈر کی وجہ سے کیا جاتا ہے ۔لیکن جو انسان خدا تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے اس کا کوئی کچھ نقصان نہیں کر سکتا۔ اس لئے وہ کسی سے ڈرتا بھی نہیں ۔ پس مومن کے دل میں جو بات ہو اسے چاہیئے کہ اچھی طرح بہادری سے اس کا اظہار کر دے اور جو نہ مانے اس کو چھوڑ دے۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ آج کل لوگ کون سی بات کے ڈر سے نفاق کا پردہ اوڑھے ہوئے ہیں۔ اور سچی بات کے اظہار کی طاقت نہیں رکھتے ۔ ایسے پر امن زمانہ میں جبکہ کوئی کسی کو کچھ تکلیف نہیں پہنچا سکتا اگر کسی کی طبیعت نفاق کی طرف جھکتی ہے تو وہ بہت ہی بد فطرت انسان ہے۔ آنحضرت مصلای ایام کو تلوار سے کسی پر رعب اور ڈر نہ ڈالتے تھے لیکن چونکہ آپ کے ہاتھ میں تلوار تھی اس لئے کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس ڈر سے بعض منافقت اختیار کئے ہوئے تھے لیکن اب تو امن و امان کا زمانہ ہے اس لئے اب اگر کوئی منافقت کرتا ہے تو وہ آنحضرت صلی السلام کے زمانہ کے منافق سے ہزار درجہ زیادہ منافق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو آئندہ منافقوں سے بچائے اور جس طرح اس نے بعض منافقین کو جدا کر ہے۔ دیا ہے اسی طرح اگر اور کوئی ہو تو اس کو بھی نکال کر ہم سب میں اتفاق پیدا کر دے۔ ل البقرة: ۷۸،۷۷ سے پاجی : کمینہ، ذلیل، بدذات شریر الفضل یکم اکتوبر ۱۹۱۴ء ) ایک عیسائی غلام ابولؤلؤ نے حضرت عمر کو شہید کیا تھا۔ بخاری کتاب المغازی باب غزوة الفتح وما بعث حاطب بن ابی بلتعة۔