خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 181

خطبات محمود جلد - ۴ ۱۸۱ سال ۱۹۱۴ء سے صلا بڑے بڑے بہادروں اور جانبازوں کی جان لے سکتا ہے۔ اور ادھر آنحضرت صلی لا الہ سلم کے پاس جہاں ہزاروں جانیں شمار کرنے والے تھے وہاں ایسے لوگ بھی پا کر جو صرف اس بات کے منتظر رہتے تھے کہ موقع ملے تو حملہ کر دیں گے اور پھر آپ ان کو علیحدگی میں بات چیت کرنے کا موقع دیتے تھے۔ تو ان باتوں کو اور آپ کے دعوی کی نوعیت کو دیکھ کر آپ کے صحیح سلامت رہنے سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کا کس قدر دشمنوں پر رعب اور غلبہ تھا۔ بادشاہت اور حکومت کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کی وہ شوکت کہاں عروس تھی جو حضرت عمر کی تھی مگر ان پر باوجود اتنے رعب کے بھی چھری چلا ہی دی گئی ۔ اس کے مقابلہ میں آنحضرت مالی تم کو دیکھو کہ کتنا بڑا جتھا منافقین کا آپ کے ارد گرد رہتا تھا مگر ان کی بات کرتے ہوئے بھی جان نکلتی تھی۔ وہ اکیلے اور تنہا آپ سے ملتے تھے مگر کسی کی مجال نہ تھی کہ ہاتھ اٹھانے کی جرات کر سکے۔ وہ سب آپ کی نظر اُٹھانے سے ہی بھاگ پڑتے تھے۔ یہ خدا تعالیٰ کی طاقت اور قدرت تھی جو کہ آپ کی زندگی میں نظر آتی تھی۔ ورنہ جو خبیث انسان حضرت عمرؓ کو قتل کرنے میں کامیاب ہوا وہ آسانی سے آپ پر حملہ کرنے کا مرتکب ہو سکتا تھا۔ یہ جو آیت میں نے پڑھی ہے اس میں منافقوں کا ذکر ہے منافق لوگوں کے دلوں میں اتنا ڈر ہوتا ہے کہ جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے خادم ہیں ۔ ہم اپنی جان اور مال سے تمہاری مدد کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن جب جُدا ہوتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ مسلمانوں سے زیادہ کھل کر باتیں نہ کیا کرو پھر وہ ہمیں تکلیف دیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ہم ان کی تمام باتوں کو جانتے ہیں جو کہ چھپاتے ہیں یا جن کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارے زمانہ میں بھی منافقوں کا ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا جو کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہم سے جدا کر دیا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ ایک بڑا عظیم الشان مکان ہے اس میں کچھ سوراخ ہیں اور اس کی چھت میں دو تین کڑیوں کی جگہ خالی ہے۔ مجھے یہ بتایا گیا کہ یہ خالی جگہ نہیں بلکہ یہاں کے منافق ہیں ۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ نے ان میں سے کچھ لوگوں کو نکال دیا ۔ پانچ چھ دن ہوئے ہیں کہ رویا میں مجھے ایک اور شخص دکھایا گیا ہے ۔ ایک مکان میں تہجد کی نماز پڑھ رہا ہوں میرے دل میں کھٹکا پیدا ہوا کہ کوئی شخص چوری کے ارادے سے اس مکان میں داخل ہوا ہے میں اس خیال سے کہ وہ کوئی چیز نہ چرا لے ۔ جلدی نماز ختم کر کے اسکی طرف بڑھا تو وہ بغیر کوئی چیز اٹھانے کے بھاگ گیا ۔ اس وقت اس نے چوروں گیا۔