خطبات محمود (جلد 4) — Page 179
خطبات محمود جلد ۴ ۱۷۹ (۴۰) نفاق بہت بڑی مصیبت ہے (فرموده ۲۵۔ستمبر ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :۔وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمُ إلى بَعْضٍ قَالُوا تُحَدِ ثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُو كُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ اَوَلَا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ! اس کے بعد فرمایا:۔دنیا کی بڑی بڑی مصیبتوں میں سے ایک نفاق کی مصیبت بھی ہے۔منافق انسان کا حملہ بہت خطرناک حملہ ہوتا ہے۔سامنے سے حملہ کرنے والا انسان خواہ کیسا ہی بہادر، دلیر اور طاقتور کیوں نہ ہو اور جس پر حملہ کیا گیا ہو وہ خواہ کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی وہ ضرور کچھ نہ کچھ مقابلہ کرتا ہے۔لیکن منافق انسان جو پوشیدہ اور خفیہ طور پر حملہ کرتا ہے، دوست بن کر دشمنی کرتا ہے،ساتھ دے کر عداوت کا ثبوت دیتا ہے اور محبت جتا کر تکلیف اور دُکھ پہنچاتا ہے اس کا حملہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔کوئی کتنا ہی بڑا پہلوان کتنا ہی مضبوط نوجوان اور کتنا ہی دانا ہو لیکن اگر وہ کنویں میں جھانکنے لگے تو ایک چھوٹا بچہ بھی اسے اچانک دھگا دے کر کنویں میں گرا سکتا ہے۔بڑے بڑے جرنیل اور سپہ سالار جن کی شکل دیکھ کر دشمنوں کے حواس باختہ ہو جاتے ہیں اور وہ کانپنے لگتے ہیں ان کو بہت چھوٹے چھوٹے اور مریل انسان منافقانہ رنگ میں قتل کر دیتے ہیں۔