خطبات محمود (جلد 4) — Page 172
خطبات محمود جلد ۴ ۱۷۲ سال ۱۹۱۴ء کبھی کسی طرف دھکیل کر لے جاتے ہیں اور کبھی کسی طرف لیکن جو انسان نفس مطمئنہ کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو دوسری طرف آخری نقطہ پر چلا جاتا ہے۔وہ پھر ایسا گمراہ ہو جاتا ہے کہ کسی نصیحت کرنے والے کی نصیحت اور وعظ کرنے والے کا وعظ اس کیلئے مؤثر نہیں ہو سکتا۔اس جنگ میں کامیاب ہونے والے انسان کی مثال اسی طرح ہوتی ہے کہ جس طرح ایک فاتح دشمن کے قلعے پر کھڑا ہوکر ٹھنڈی ہوا کھا رہا ہو اور اردگرد کے منظر اور سبزی سے لطف اٹھارہا ہو۔اسے دیکھ کر اور پھر ایک ایسے سپاہی کو دیکھ کر جولڑائی میں بڑی جانبازی اور کوشش سے تلوار چلا رہا ہو ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ قلعہ پر چڑھ کر سیر کرنے والا بے کا رہے اور کوئی محنت نہیں کرتا لیکن اسے کیا معلوم ہے کہ اس نے مدتوں تلوار کھینچی اور محنت کی ہے اور اسی وجہ سے آج قلعہ تک پہنچا ہے۔اس کا لڑائی میں تلوار چلانا اس کی فتح نہ تھی کیونکہ کبھی یہ ایک قدم آگے بڑھ آتا تھا اور کبھی اس کو پیچھے ہٹنا پڑتا تھا لیکن جب اس نے دشمن کو کامل شکست دی، تب جا کر قلعہ پر قبضہ کرنے کے قابل ہوا۔تو ایک میدان خدا تعالیٰ نے بھی رکھ دیا ہوا ہے۔بہت کم عقل ہوتے ہیں وہ لوگ جو اس میدان میں ترقی کا ایک قدم چل کر کہتے ہیں کہ ہم کامیاب ہو گئے۔ایسے لوگوں کو شیطان گھسیٹ کر ایک قدم پیچھے پھینک دیتا ہے اس کے خلاف ایک ایسی قوم بھی ہوتی ہے جو اگر اصل راہ سے ایک قدم پیچھے ہٹ جائے تو مجھتی ہے کہ اب ہمارے سنبھلنے کا کوئی طریق نہیں۔ایسوں کو بھی شیطان اُبھر نے نہیں دیتا۔کامیابی وہی انسان حاصل کر سکتا ہے جو اگر آگے بڑھے تو خوش نہیں ہوتا اور اگر پیچھے ہٹے تو مایوس نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جہاں میں نے پہنچنا ہے وہ اور ہی جگہ ہے۔ایک طبیب مریض کو دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ اس کی حالت اچھی ہے نبض چلتی ہے، طاقت قائم ہے۔مگر اس کے ماں باپ وغیرہ رو بیٹھتے ہیں۔پھر کبھی ایک طاقتور انسان ہوتا ہے اور لوگ اسے موٹا تازہ سمجھتے ہیں لیکن طبیب کہ دیتا ہے کہ اس کے دل کو ایسا صدمہ پہنچا ہوا ہے ممکن ہے کہ ذراسی زور کی آواز سے اس کی جان نکل جائے۔تو انسان کے لئے اپنی حالت کی نسبت بظا ہر فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن جب وہ کسی حد کو پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کی حالت کا اندازہ کرنے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں رہ جاتا۔اگر ایک آدمی کچھ عرصہ بے کا رر ہے تو اس کے اعضاء کسی قدر کام کرنے کے ناقابل ہو جاتے ہیں لیکن اگر وہ مطلقا ان سے کوئی کام نہ