خطبات محمود (جلد 4) — Page 168
خطبات محمود جلد ۴ ۱۶۸ سال ۱۹۱۴ء احمق اور تنزل میں جانے والا انسان کہتا ہے کہ اتفاق سے یہ بات ہو گئی ہے۔مگر ہوشیار اور ترقی کرنے والا انسان کبھی اس طرح نہیں کہتا۔وہ ہر ایک بات کی وجہ دریافت کر کے اگر اس کو اپنے لئے مفید اور فائدہ مند سمجھتا ہے ہے تو اس پر عملدرآمد کرنا شروع کر دیتا ہے۔اور اگر مضر اور نقصان رساں پاتا ہے تو اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کی شرارت کی وجہ سے ان کو سزا دی لیکن انہوں نے اس بات کو نہ سمجھا بلکہ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ پھر ان کے دل سخت ہو گئے اور اس سزا کو انہوں نے بھلادیا اور کہا کہ ایسے اتفاق ہو ہی جایا کرتے ہیں حالانکہ انہیں یہ سمجھنا چاہئے تھا کہ یہ سزا جو ہمیں ملی ہے یہ ہماری شرارتوں کا نتیجہ ہے۔قوم تباہ ہوگئی ،سردار مارے گئے، شہر اور گاؤں ویران ہو گئے لیکن انہوں نے ان سب باتوں کو اتفاق پر ہی محمول کیا۔اسی طرح اب کہا جاتا ہے۔فرمایا کہ پتھر بھی ایسے نرم ہوتے ہیں کہ جن سے پانی نکل آتا ہے لیکن یہ خبیث ایسے ہیں کہ کبھی دانائی کی بات نہیں کرتے۔رحم کا مادہ ان میں نہیں رہا، نیکی اور تقویٰ ان سے اُڑ گیا ہے۔یہ روزانہ عبرت کے سامان دیکھتے ہیں لیکن پھر اندھے ہو کر گزر جاتے ہیں۔ان کے دلوں میں نہ خوف خدا ہے نہ رحم ہے نہ مہربانی۔اس لئے ہر ایک بات کو اتفاقی کہہ دیتے ہیں اور کبھی اس بات کے اسباب اور علتوں پر غور نہیں کرتے۔اگر یہ غور کرتے تو انہیں معلوم ہو جا تا کہ یہ سزا جو ہمیں ملی ہے کہ ہم پر عذاب نازل ہو رہے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور نبیوں کے مقابلہ کی وجہ سے ہے لیکن یہ دن بدن سنگ دل سے سنگ دل ہی ہوتے چلے گئے جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ تباہ ہو مومن کی شان :- مومن کی یہ شان نہیں ہوتی وہ عبرت کے سامان دیکھ کر ڈر جاتا ہے اور طرح طرح کے بہانے نہیں بناتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سناتے تھے کہ کسی گاؤں میں ہیضہ جو پڑا تو ایک شخص کسی کی لاش دیکھ کر کہنے لگا کمبخت پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اس لئے مرتے ہیں۔ہم تو ایک چپاتی کھاتے ہیں اس لئے بیمار بھی نہیں ہوتے۔دوسرے ہی دن ایک جنازہ نکلا پو چھا گیا کہ کس کا ہے تو معلوم ہوا اس ایک چپاتی کھانے والے کا ہے۔تو بد بخت لوگ سامان عبرت کو دیکھ کر اندھے اور بہرے ہو کر گزر جاتے ہیں۔وہ لوگوں کو تباہ ہوتا دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ اوروں کیلئے ہی یہ ہلاکت ہے ہمارے