خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 165

خطبات محمود جلد - ۴ ۱۶۵ سال ۱۹۱۴ء اس کے دل میں آدمیوں کا ڈر ہوتا ہے کہ کوئی دیکھ نہ لے۔ پھر وہ اپنے دل کو بڑی بڑی تسلیاں دیتا ہے اور ڈر دور کرتا ہے اور وہ چوری کو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خوب یا درکھو ہم ایسی باتوں کو آخر کار نکال ہی دیا کرتے ہیں۔ گورنمنٹ کے قید خانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مجرم چھپا نہیں رہ سکتا ۔ خدا تعالیٰ نے مجرم کا جرم ظاہر کرنے کے لئے بڑے بڑے سامان پیدا کئے ہیں۔ لوگ بڑے بڑے ظلم کرتے ہیں لوگوں کے حقوق کو تلف کرتے ہیں اور پھر سمجھتے ہیں کہ کسی کو پتہ نہیں لگے گا۔ تو یاد رکھو کہ کوئی مجرم جو اپنے جرم پر اصرار کرنے والا ہو ایسا نہیں ملے گا کہ آخر کار اس کا جرم ظاہر نہ ہو گیا ہو اور اس کا راز پوشیدہ رہا ہو اور یا وہ تادم مرگ با عزت رہا ہو۔ یہ نصیحت کی ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ کسی کو معلوم نہ ہوگا۔ خدا تعالی تمام راز ظاہر کر دیتا ہے۔ کوئی زانی ہو، شرابی ہو، چور ہو ، ڈاکو ہو ، فریبی ہو، دغا باز ہو، اللہ تعالیٰ تمام کے رازوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔ لوگ بہتیر ا چھپاتے ہیں لیکن آخر کار راز کھل جاتا ہے۔ فرمایا تم یہ سمجھ کر کہ کسی کو علم نہ ہو گا کسی جرم پر جرات مت کرو۔ انسان اگر یہ یقین کرلے اور اس کے یقین کرنے کے لئے یہ عمدہ طریق ہے کہ وہ یہ سمجھ لے کہ وہ اگر جرم کرتا ہے اور ایک مدت تک اگر یہ نیک مشہور بھی رہے اور اس کی شرارت پر پردہ پڑا ہے تو وہ آخر کار ظاہر ہو ہی جاوے گا۔ جب انسان کو اس بات کا یقین ہو جاوے تو اسکے دل میں خدا تعالیٰ کا ڈر پیدا ہو جاوے گا اور وہ گناہوں سے بچ جاوے گا۔ خدا پر اسے یقین ہو جائے گا اور اگر خدا پر یقین نہ ہو تو کم از کم آدمیوں کا اس کے دل میں ڈر پیدا ہو جائے گا اور وہ اس شر سے محفوظ رہے گا ۔ خدا پر انسان یقین کر لے تو جان سکتا ہے کہ یہ بات کیسی سچی ہے وَاللهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ اب اس آیت کے ماتحت دیکھ لو کہ ہر ایک ملک میں جو جو ایجادیں ہوئی ہیں جہاں اور ایجادیں بڑھیں وہاں مجرموں کے متعلق بھی بڑی بڑی ایجادیں ہوئی ہیں۔ ایسے ایسے ہتھیار تیار کی ہوئے ہیں کہ لوہے کے دروازوں کو جس طرح پنیر کا ٹا جاتا ہے کاٹ کر ہلا کھٹکے کے ان میں سے گزر جاتے ہیں مگر اس کے مقابلہ میں ان مجرموں کا پتہ لگانے کے لئے بھی بڑی عجیب ایجادیں ہوئی ہیں۔ ایک ایسا آلہ ایجاد ہوا ہے کہ آدمی اس کا ایک سرا اپنے گھر میں رکھ دیتا ہے اور اس آلہ کا دوسرا سرا پولیس سٹیشن میں ہوتا ہے چور آتا ہے۔ چور بھی بڑی احتیاط کرتا ہے لیکن اس