خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 147

خطبات محمود جلد ۴ ۱۴۷ سال ۱۹۱۴ء تہجد پڑھتے تھے۔سارا دن لڑائی میں مشغول رہتے اور رات کو بجائے سونے کے خدا تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو جاتے تھے۔جنگ یرموک میں عیسائی بادشاہ نے اپنے ایک آدمی کو کوئی بات دریافت کرنے کیلئے رات کو مسلمانوں کے لشکر میں بھیجا۔تو اس نے واپس آکر کہا کہ ہم کبھی ان پر غالب نہیں آسکتے۔ہمارے سپاہی تو راستہ میں ہی کمریں کھولنی اور ہتھیار اتارنے شروع کر دیتے ہیں۔تا کہ چل کر جلدی آرام کریں۔لیکن وہ تو رات کو بھی دعاؤں اور خدا تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں ۵ تم خدا تعالیٰ کا نام لو۔کون پسند کرتا ہے کہ اس کا نام مٹا دیا جائے۔نام کے بقاء کیلئے ہی لوگ اولاد کے متمنی ہوتے ہیں تو جب کمزور انسان پسند نہیں کرتا کہ اس کا نام مٹ جائے ، تو وہ بڑی قدرتوں اور طاقتوں والا خدا کب پسند کر سکتا ہے کہ اس کا نام مٹ جائے اگر تم خدا تعالیٰ کے نام لیوا ہو گے تو تمہارا مٹانا خدا کے نام کا ہی مٹانا ہوگا۔پس اس کی چوکھٹ پر گر جاؤ اور دعاؤں میں لگے رہو۔ممکن ہے کہ تم میں سے کسی کی دعا قبول ہو جائے اور یہ موجودہ فتنہ دور ہو جائے۔اس رمضان سے بہت سے فوائد حاصل کر کے گزرو اور خدا تعالیٰ کی عبادت کرو۔جب تمہارے ذریعہ خدا تعالیٰ کا نام روشن ہوگا اور تم اس کے دروازے پر جھک جاؤ گے تو کوئی تمہیں تباہ نہیں کر سکے گا۔اور اگر تم اس کے دروازے سے ہٹ جاؤ گے تو اس کو بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں وہ کسی اور قوم کو بھیج دے گا۔کیونکہ وہ ہمارا محتاج نہیں بلکہ ہم اس کے محتاج ہیں۔ایک باغبان باغ میں درخت لگاتا ہے لیکن جو بے پھل درخت ہوتا ہے اس کو کاٹ دیتا ہے تا کہ وہ بے فائدہ جگہ کو نہ گھیرے رہے اور پھر وہ جلانے کے کام آتا ہے۔تو یہ باغ سیح موعود علیہ السلام نے لگایا ہے۔اگر یہ پھل نہ دے گا تو اور باغ لگایا جائے گا۔پس جو کوئی اس باغ میں بے پھل کھڑا ہے اس کو بہ نسبت اس کے جو کہ جنگل میں کھڑا ہے زیادہ ڈرنا چاہئیے کیونکہ جنگل میں بے پھل اور خاردار درخت بھی کھڑے رہ سکتے ہیں لیکن باغ میں ایسے درختوں کو ضرور کاٹ دیا جاتا ہے۔تم اس باغ کے درخت ہو تمہارے لئے اوروں کی نسبت زیادہ خطرے کی بات ہے اس لئے جو کوئی تم میں سے اپنے اندر بے پھل یا خاردار درخت کی ایسی خصلتیں دیکھتا ہے وہ تبدیلی پیدا کرے۔تم روزوں میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی عبادت میں لگ جاؤ تاکہ تمہارے لئے عید خوشی کا موجب ہو۔عید کی تمہیں اس لئے خوشی نہ ہو کہ اس دن کھاؤ پیو گے بلکہ اس دن خدا