خطبات محمود (جلد 4) — Page 133
خطبات محمود جلد - ۴ ۱۳۳ سال ۱۹۱۴ء پیش کر کے پیسے وصول کر لئے جاتے ہیں۔ اور اس زمانہ میں ہر ایک ذلیل سے ذلیل چیز کی بھی بیچ ہو رہی ہے۔ حیرت کا مقام ہے، شہروں میں اب پا خانہ بھی فروخت کیا جاتا ہے۔ اور اس کے علاوہ کوئی ذرا بھر نفع دینے والی چیز ہوا سے جھٹ فروخت کر دیا جائے گا۔ تم یہاں سے چلو گے تو یہیں سے تم بیچ میں لگ جاؤ گے۔ یکہ والے سے بیچ ، ریل میں پھر سٹیشنوں پر جا کر مختلف قسم کی بیعیں ہوں گی ۔ برف ، مٹھائی، مختلف قسم کے میوے اور مختلف قسم کی اور چیزیں ہوں گی جن کی تم بیچ کرو گے لیکن یہ وقتی بیعیں ہوں گی۔ یہ سب چیزیں جو تم لو گے کچھ تو گھر پہنچتے پہنچتے تمہارا جزو بدن بن چکی ہوں گی۔ کچھ فضلہ بن کر تم سے الگ ہوں گی ۔ پھر جو چیزیں تم گھروں میں لے جاؤ گے وہ تم اپنے بھائیوں اور عزیزوں کو دو گے، بچوں کو دو گے وہ بھی انہیں کھا کر ختم کریں گے۔ لوگ بھاگے بھاگے اِدھر سے اُدھر اُدھر سے ادھر پھرتے ہوں گے۔ ان کی غرض یہ ہے کہ ان کی چیزیں بک جائیں اور اس کے بدلے میں روپے پیسے لیں ۔ وہ چیزیں بھی تمہارے پاس نہ رہیں گی بلکہ تمہارا جزو بدن بن جائیں گے۔ یہ تو وقتی بیعیں ہیں جو فنا ہونے والی اور محدود ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک بیع بتلاتا ہے اور وہ یہ ہے إِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ - خدا فرماتا ہے ہم تم سے ایک بیچ کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تم ہمارے پاس اپنے نفس اور اموال بیچ دو اور تمہیں اس کے بدلے میں ہم ایک کبھی نہ ختم ہونے والی چیز دیتے ہیں وہ کبھی ختم نہ ہوگی اور اس کے بدلے میں آرام اور سکھ تم کو ملے گا۔ دنیا میں تو جو چیز دے کر دوسرے کے پاس سے اس کی محنت لیتا ہے بیچنے والا ایک چیز اپنی محنت کے ذریعہ پیدا کرتا ہے پھر اسے بیچتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ انسان کو بغیر اس کی محنت و مشقت کے ایک چیز دیتا ہے پھر کہتا ہے اچھا یہ چیز ہمارے پاس بیچ دوہم تمہیں اس کے بدلے میں ایک غیر فانی چیز دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خود ناک ، کان ، ہاتھ، پاؤں سر ، منہ غرض تمام اعضاء عنایت کئے نی اور مال بھی اپنے پاس سے دیا لیکن پھر وہ انسان کو کہتا ہے یہ چیز بیچ دو اس کے بدلہ میں میں تم کو ایک اعلیٰ چیز دوں گا۔ کیا تم بتلا سکتے ہو کہ اس بیچ میں کوئی نقصان ہے؟ نادان ہے وہ شخص جو اس بیچ کے کرنے میں ہچکچائے۔ پھر اس بیچ میں اور عجائب ہیں کوئی انسان جب کوئی چیز خریدتا ہے تو اسے اپنے گھر لے جاتا ہے اور اسے اپنے پاس رکھ لیتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اَنفُس و اموال کو خرید کر فرماتا ہے اچھا