خطبات محمود (جلد 4) — Page 122
خطبات محمود جلد ۴ ۱۲۲ (۲۹) سیاست کو چھوڑ کر تم دین میں لگ جاؤ (فرمودہ ۳۔ جولائی ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :۔ وَإِذْ قُلْتُمْ يَمُوسى لَنْ نَّصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجُ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ مِنْ بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُوْمِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا قَالَ اتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُمْ مَّا سَأَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الظُّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ ذُلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُوْنَ بِأَيْتِ اللهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّنَ بِغَيْرِ الحَقِّ ، ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ ) اس کے بعد فرمایا:۔ جب کوئی قوم مدت تک ماتحت اور غلام رہتی ہے تو اس کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں اور پھر ضرورت ہوتی ہے اس بات کی کہ ان کو آزاد رکھا جائے ۔ تب اس قوم کی حالت درست ہوتی ہے ۔ بنی اسرائیل مدت تک فرعون کی جابر حکومت کے ماتحت رہے اور ان کے قومی حکومت اس سے بہت بگڑ گئے اور ان کی اخلاقی حالت بالکل گر گئی۔ اور ان میں حکومت کا مادہ بالکل نہ رہا۔ ان میں لڑائی کرنے کی قابلیت اور کی جرات بالکل نہ رہی تھی۔ جیسے قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کو کہہ دیا - اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ ۔ ان وجوہات سے اللہ تعالیٰ نے ان کو جنگل میں رکھا تا کہ ان کے اخلاق شدھر جائیں ۔ یہ