خطبات محمود (جلد 4) — Page 117
خطبات محمود جلد ۴ ۱۱۷ سال ۱۹۱۴ء اور اسی سے تمام نعمتیں مل سکتی ہیں۔ اس کی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہوں گی ۔ انسان کے خزانے ختم ہونے والے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے خزانے ختم نہیں ہو سکتے ۔ پانی کو ہی دیکھ لو کہ کروڑ ہا سالوں سے تمام مخلوق اسے پی رہی ہے لیکن وہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔ ہوا کو سانس لے لے کر گندہ کیا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہر روز نئی اور مصفی ہوا بھیج دیتا ہے۔ ایسے ہی غلے پھر جمادات ، سونا، چاندی، تانبا،سکہ وغیرہ تمام دھاتیں ، ان کی کانیں ختم ہونے میں ہی نہیں آتیں۔ تو خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی کوئی انتہاء نہیں۔ جیسے وہ ذات خود غیر محدود ہے ویسے ہی اس کی نعمتیں غیر محدود ہیں۔ بعض لوگ ان دنیاوی نعمتوں میں پھنس کر اللہ تعالیٰ کو ناراض کر بیٹھتے ہیں انہیں یا د رکھنا چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں آزمائش کیلئے آتی ہیں۔ ہم سے پہلے ہزاروں طاقتور قو میں گزر چکی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی نعمتیں دیں مگر نافرمانی کی وجہ سے وہ نعمتیں ان سے چھینی گئیں اور انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ مسلمانوں پر بھی آج کل آزمائش کے دن ہیں۔ خدا تعالیٰ دیکھتا ہے کہ ہم اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں یا کہ اس کو بھلا کر دنیاوی نعمتوں میں پھنس جاتے ہیں۔ اس لئے ہمیں دعاؤں میں لگ جانا چاہیئے اور فکر کرنا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ کی جس طرح نعمتیں غیر محدود ہیں ایسے ہی اس کے عذاب بھی سخت ہیں اور غیر محدود ہیں۔ خدا تعالیٰ تھکتا نہیں ۔ جیسے اس کی نعمتیں نئی سے نئی ہیں ویسے ہی وہ عذاب نئے سے نئے دے سکتا ہے۔ یورپ والے بیماریوں کے علاج کرتے ہیں لیکن ابھی ایک بیماری کا علاج وہ مکمل نہیں کر پاتے کہ ایک اور نئی قسم کی بیماری نکل آتی ہے۔ بہت فکر اور احتیاط کا مقام ہے خدا تعالیٰ سے تعلق ایسا ہی ہے جیسے تیز تلوار کی دھار پر چلنا ۔ اس لئے احتیاط چاہیئے کہ خدا تعالیٰ کی نارضا مندی نہ ہو۔ دنیا کی نعمتیں اگر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں خرچ کر دی جاویں تو وہ اور نعمتیں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرو، اس کی فرمانبرداری کرو۔ اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے سے تمام مشکلات حل ہو جاتے ہیں ۔ ل البقرة : ٥٩ الفضل ۲۵ - جون ۱۹۱۴ء)