خطبات محمود (جلد 4) — Page 106
خطبات محمود جلد - ۴ ١٠٦ سال ۱۹۱۴ء جب گناہ کرتا کرتا حد سے گزر جاتا ہے تب معمولی سا قصور ہی اس کی سزا کا موجب بن جاتا ہے۔ اس لئے ہر وقت انسان کو تو بہ میں لگے رہنا چاہیئے ہے ۔ انسان جب بہت غلطیاں کرتا ہے اور بڑی بڑی شرارتیں اس سے سرزد ہوتی ہیں تب جا کر خدا تعالیٰ اس کو پکڑتا ہے۔ بعض غلطیاں انسان سے ایسی بھی ہو جاتی ہیں جن کو وہ سمجھ نہیں سکتا ۔ اس لئے چاہیئے کہ انسان ہر وقت تو بہ اور استغفار میں لگار ہے۔ تم خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرو۔ جن سے خدا تعالیٰ کا تعلق ہوتا ہے ان سے خدا تعالیٰ خود کبھی نہیں توڑتا۔ بنی اسحق پر جو انعامات ہوئے وہ اب بھی پورے ہو سکتے ہیں بشرطیکہ تم ان برگزیدہ کی طرح ہو جاؤ۔ ل البقرة: ره تاده الفضل ۳۔ جون ۱۹۱۴ء) یہ حصہ پنجم صفحه ۳۳۵ روحانی خزائن قَطَعْتَ وِدَادًا قَدْ غَرَ سُنَاهُ فِي الصَّبَا - براہین احمدیہ حصہ جلد ۲۱ صفحه ۳۳۵ ۳ ملفوظات جلد ۴ صفحه ۶۳۹ (نیا ایڈیشن) میں یہ واقعہ رنجیت سنگھ کی بجائے شیر سنگھ کے بیٹے پرتاب سنگھ کے متعلق درج ہے۔