خطبات محمود (جلد 4) — Page 79
خطبات محمود جلد ۴ ۷۹ سال ۱۹۱۴ء وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَةٌ پھر جب مسلمانوں نے دیکھا کہ اب تو دشمنی ہو گئی ہے تو ڈر گئے کہ اب کیا کریں گے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہاں دنیا میں ہی گزارہ کرنا ہو گا ایک وقت تک۔پھر آدم نے توبہ کی اور کہا کہ کوئی غلطی ہوگئی ہے جس سے فساد بڑھ گیا ہے اب کیا کریں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ استغفار کرو ہم معاف کر دیں گے۔آجکل بھی خلافت کے جھگڑے میں ہمارے بعض لوگوں سے لکھتے وقت بعض سخت کلمات نکل گئے ہیں حالانکہ فریق مخالف نے بہت سخت لکھے ہیں اور ابتداء بھی انہیں کی ہے پس جن دوستوں سے غلطی ہوئی یا جن کی وجہ سے فتنہ میں ترقی ہوئی ہو وہ تو بہ کر لیں بس یہی علاج ہے۔فَمَنْ تَبِعَ هُدی۔خلافت ہمیشہ قائم رہے گی آدم سے لے کر آج تک خلافت میں وقفہ نہیں ہوا۔کئی روحانی اور جسمانی خلافتیں ہوئی ہیں اگر روحانی نہ رہی تو جسمانی ہو گئی۔اور جسمانی نہ رہی تو روحانی رہی ہے۔پس جو کوئی اس ہدایت کی پیروی کرے گا اس کو کوئی فکر نہیں اور جولوگ انکار کریں گے وہ آگ میں ڈالے جائیں گے۔رسول کریم صلی یتیم آدم تھے ان کا مقابلہ کیا گیا۔اور بعض صحابہ سے غلطیاں ہوئیں لیکن پھر انہوں نے غلطیوں کی اصلاح کرلی۔غلط کہتے ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ ماموروں اور ان کے خلیفوں کا انکار کر کے بھی ہم سکھ پاسکتے ہیں۔ہر ایک ہم میں سے آدم ہے جن نہیں۔خدا نے سب پر آدم کا لفظ بولا ہے اور ہر ایک سے اس کا الگ الگ معاملہ ہے۔ایک باپ کا بیٹا خلیفہ ہوتا ہے پھر بڑی قوم کا سردار خلیفہ ہوتا ہے۔پھر غیر مامور خلیفے اور پھر انبیاء کے خلیفے ہوتے ہیں ان کے الگ رتبے ہوتے ہیں۔اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔مبارک ہے وہ انسان جو اپنی غلطیاں اپنے اوپر لگائے نہ کہ خدا پر۔خدا سے اپنا تعلق مضبوط کرو اور ملائکہ کی طرح فرمانبرداری اختیار کرو۔حضرت عثمان کے زمانہ میں صحابہ زیادہ تھے اور شریر لوگ تھوڑے لیکن جس قدر زمانہ گزرتا گیا وہ اتنے ہی زیادہ ہو گئے اور صحابہ کم۔اور پھر تیرہویں صدی میں تو مسلمانوں کی یہ حالت ہوگئی کہ جس سے کہا جاتا ہے کہ جنگلی درندوں نے بھی پناہ مانگی ہے۔اب چودھویں صدی کا مبارک زمانہ ہے اس میں اپنے اندر اصلاح پیدا کرو اور خدا کے سچے فرمانبردار بن جاؤ۔الفضل ۲۹۔اپریل ۱۹۱۴ ء ) ل البقرة: ۳۵ تا ۴۰ کے السجدة: ۱۶ ابراهیم : ۲۵