خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 76

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء کہ ہم اس سے بہتر ہیں۔ہم تیرے فرمانبردار ہیں اور تیری تعریف اور تقدیس کرتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ایسے انسان کو جو کہ دنیا میں لڑائی اور فساد کرے گا فتنے پھیلائے گا ہم سے سجدہ کروایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی فرمانبرداری کرو لیکن جب اللہ نے ان کو فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ میری اس میں کیا مصلحت ہے تو انہوں نے گردن جھکالی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے فرمانبردار ہو جاؤ۔پس سجدہ میں جھک پڑے۔اگر چہ پہلے انہوں نے اعتراض کیا تھا لیکن جواب ملنے پر فرمانبردار ہو گئے۔ہر ایک چیز پر فرشتے مسلط ہیں۔خدا نے ان کو حکم دیا کہ جس چیز سے انسان فائدہ اٹھانا چاہے یا اس کو استعمال کرنا چاہے اس کو روکنا نہیں۔یہی فرشتوں کی فرمانبرداری ہے جو کہ آدم کے لئے کروائی گئی۔ایک ملائکہ انسان ہوتے ہیں ان کو امام وقت کی فرمانبرداری کا حکم ہوتا ہے گو ان کا دل مانے یا نہ مانے لیکن وہ فرمانبرداری کرتے ہیں۔آنحضرت صلی السلام کے زمانہ میں حضرت ابوبکر " حضرت عمر " حضرت عثمان" حضرت علی فرشتے تھے لیکن سب کو حکم تھا کہ رسول کریم ملی ایتم کی خدمت کرو۔پہلے انہوں نے انکار کیا لیکن ملائکہ تھے آخر مان گئے اور سجدہ کیا کہ رسول کریم سنی لیا اسلام کی وفات چھوڑا اپنی وفات تک سر نہ اٹھایا اور ساری عمر میں کسی نے ان کے منہ سے رسول کریم صلی ا یہ ان کے متعلق کوئی اعتراض نہ سنا مگر آنحضرت کو بھی ان لوگوں نے جو ابلیس تھے نہ مانا۔ایک آدم علیہ السلام کے زمانہ کا ابلیس ہوگا۔بعضوں نے کہا کہ شیطان ملائکہ کا استاد تھا باقی سب فرشتے جنہوں نے سجدہ کیا وہ اسکے شاگرد تھے۔اور وجہ یہ بیان ہے کرتے ہیں کہ سجدہ کیلئے جہاں فرشتوں کا ذکر ہے اس کے ساتھ ہی ابلیس کا ذکر ہے اس لئے یہ بھی فرشتہ ہی ہے۔لیکن یہ غلط ہے بادشاہ فوج کے کمانڈر انچیف کو حکم دیتا ہے اور وہ اپنا حکم اعلیٰ اور قریبی افسروں کو پہنچاتا ہے اس کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام فوج سے اس حکم کی تعمیل کروائے۔حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا وند تعالیٰ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو پہلے قریبی فرشتوں کو حکم دیتا ہے۔اور پھر وہ آگے پہنچا دیتے ہیں۔ملائکہ کو فرمانبرداری کا حکم اس لئے ہوا کہ وہ دنیا سے فرمانبرداری کرائیں لیکن ابلیس نے انکار کر دیا۔اور اس کی وجہ یہ تھی اس نے اپنے آپ کو بڑا سمجھا اور کہا کہ میں نہیں مان سکتا۔جو انسان یہ کہے کہ میں نہیں مان سکتا وہ کبھی ہدایت نہیں پاسکتا۔البتہ جو حق بات پر غور کرے اور درست و غلط میں تمیز