خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 68

خطبات محمود جلد ۴ ۶۸ سال ۱۹۱۴ء کے بعد ہوا۔نبیوں کی وفات کے بعد جب الہام کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے تو پھر لوگ الہام سے ہی منکر ہو جاتے ہیں اور لوگوں کے دلوں سے تقویٰ اور طہارت اٹھ جاتے ہیں۔ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔یہاں دو زمانوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے (۱) عرب مُردہ تھے تو ان کی طرف نبی کریم صلی پی ایم آئے اور وہ آپ کے وقت میں زندہ ہو گئے پھر ایک ایسا دن آیا کہ تم پہلوں کی طرح سچائی سے دور تھے اور مُردہ تھے تو تمہاری طرف بھی ایک نبی آیا۔ایسا ہی خدا تعالیٰ تم کو جبکہ تم بے دین ہو جاؤ گے تو دوبارہ تمہیں زندہ کرے گا۔اب فرماتا ہے هُوَ الَّذِی خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا - دنیا کی تمام چیزیں تمہارے لئے پیدا کیں لکم کے معنی ہیں تمہارے فائدہ کیلئے تا کہ تم کو اس سے نفع پہنچے۔اس میں ایک حجت قائم کی ہے۔ایک انسان اگر کسی عبث کام کیلئے محنت کرے جس میں کوئی فائدہ نہ ہو تو وہ انسان دانا نہیں بلکہ نادان ہوا کرتا ہے۔تو فرمایا کہ ہم نے تمام چیزیں تمہارے نفع رسانی کیلئے پیدا کی ہیں۔کوئی چیز دنیا میں ایسی نہیں ہے جو انسان کیلئے نفع رساں نہ ہو۔زمین میں ہر ایک قسم کے فوائد ہیں۔پانی۔نباتات ، جمادات وغیرہ تمام اشیاء ان میں سے کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو فائدہ نہ دینے والی ہو۔جتنے جتنے معلومات بڑھ رہے ہیں اتنا ہی معلوم ہو رہا ہے کہ کوئی چیز نا کارہ نہیں ہے۔کوئی ادنیٰ سے ادنی چیز بھی لے لو وہ بھی نا کارہ نہ ہوگی۔درختوں کی چھال ہی لے لو اس سے ہی کتنے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔منجملہ ان کے اس سے کاغذ بنتے ہیں اور اس کے کپڑے بھی بنتے ہیں۔شہروں کے لوگ جانتے ہیں کہ پاخانہ سے کتنے فائدے ہوتے ہیں کسان اس سے کتنا فائدہ حاصل کرتے ہیں پہلے تو لوگ اسے یونہی باہر پھینک دیا کرتے تھے۔تو جتنا جتنا علوم ترقی کرتے چلے جاتے ہیں اتنا ہی ہر ایک چیز کے فوائد معلوم ہوتے جار ہے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اتنے سامان جو پیدا کئے گئے ہیں کیا یہ سب عبث ہی بنائے ہیں۔اگر اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہوئی تھی اور اس کا نتیجہ صرف یہی تھا کہ اس دنیا میں انسان چند سالوں تک رہے پھر مر کر ناک ہو جاوے اور پھر اسے دوبارہ اپنی جزا ء سزا کیلئے نہ اٹھنا ہو اور پھر اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہو تو پھر یہ سامان عبث جاتا۔پھر فرمایا کہ صرف زمین ہی نہیں بنائی بلکہ سات بلند یاں بھی ہیں۔ایک تو ہر ایک ستارے کا علیحدہ علیحدہ مرکز ایک الگ سماء بن جاتا ہے۔سورج۔چاند ستارے وغیرہ۔صوفیاء نے تو پھر اس کی اور ہی تعریف کی ہے و دو سبع سموت کچھ اور ہی بتلاتے ہیں وہ کہتے ہیں۔ایک