خطبات محمود (جلد 4) — Page 534
خطبات محمود جلد ۴ ۵۳۴ سال ۱۹۱۵ کوئی راستہ معلوم ہو جائے تو وہ بوجھ اُتر جاتا ہے۔اسی لئے گورنمنٹ برطانیہ نے جو ایک بہت دانا گورنمنٹ ہے ہر ایک محکمہ کے کاروبار کے فارم اور نقشے بنا دیئے ہیں تا جو کوئی بھی کام کرے وہ آسانی سے کر سکے۔اس طرح ہر ایک انسان سہولت سے کام کر سکتا ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو ہزار ہا ملازم بھی اس قدر کام نہ کر سکیں جس قدر موجودہ صورت میں چند آدمی کر لیتے ہیں تو کام کرنے والے کو کام کے طریق بتاتے دینا ایک بڑی مدد اور تائید ہوتی ہے اور اگر ایسانہ کیا جائے تو ہر ایک انسان کام کے بوجھ کو نہیں اٹھا سکتا تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ یہی نہیں کہ جس راستہ کی طرف تم لوگوں کو بلاتے ہو اس کیلئے ہم نے تمہیں بڑے بڑے دلائل اور براہین دے دیئے ہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ بوجھ جس کو انسان آپ اٹھانا چاہتا تھا اور اس نے اس کی کمر توڑ دی تھی ، ہم نے اس کو بھی دور کر دیا۔یعنی خدا نے اپنے تک پہنچنے کا طریق اور رستہ بھی خود ہی بتا دیا۔دیکھو جتنی قوموں نے خدا تعالیٰ کے پاس اپنی عقل سے پہنچنا چاہا ان کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوسکیں۔اس زمانہ میں ایسی قوم کی تازہ مثال برہمو سماج کی ہے تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک ایسا بوجھ جس نے تیری کمر کوتوڑ دینا تھا اس کو ہم نے اٹھا دیا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ وہ سب باتیں بتادی ہیں کہ جن کی ہدایت انسانی کیلئے ضرورت تھی اب انسان کا اتنا ہی کام ہے کہ قرآن شریف کو کھول کر پڑھ لے اور ان پر عمل کرنا شروع کر دے۔اب بوجھ ہلکا ہو گیا اور کمر سیدھی ہو گئی تو فرمایا وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ۔پھر انسان کو خیال آتا ہے کہ جو کام میں کر رہا ہوں یہ اچھا ہے اور اس کے کرنے کا طریق بھی مجھے معلوم ہو گیا ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ بھی ہوگا یا نہیں۔اس کیلئے فرمایا وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ تمہارا درجہ اتنا بلند ہوگا اتنا بلند ہوگا کہ تم کیا تمہارا ذکر بھی بلند کر دیا جائے گا۔یہ بہت بڑا درجہ ہے کیوں؟ اس لئے بہتیرے انسان ایسے ہوتے ہیں جو آپس میں درجہ کے لحاظ سے تو برابر ہوتے ہیں لیکن ذکر میں برابر نہیں ہوتے۔مثلا کسی سلطنت کے وزراء کو ہی لے لو ، بعض کو گو بہت عرصہ گزر چکا ہے لیکن ان کے نام تک مشہور ہیں اور بعض کو کوئی جانتا بھی نہیں۔انگریزوں کی سلطنت کے بھی بہت سے وزیر ہیں لیکن ذکر بلند چند کا ہی ہے تو ذکر کا بلند ہونا خاص خاص لوگوں کے حصہ میں آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تیرا ذ کر بہت بلند کر دیا ہے۔یعنی اگر کوئی میرے اس بتائے ہوئے راستہ پر چلے گا تو کوئی