خطبات محمود (جلد 4) — Page 515
خطبات محمود جلد ۴ ۵۱۵ سال ۱۹۱۵ ہے کہ ہم اس کی شکر گزاری میں نہ لگ جائیں۔مولانا رومی نے خاص ایمان والے انسان کے متعلق ایک عجیب قصہ لکھا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس لقمان بطرز غلام رہتے تھے ان کو ان سے بڑی محبت تھی اور ان سے بڑا تعلق تھا اور جو کچھ وہ کھا تا انہیں ساتھ شامل کرتا۔ایک دفعہ بے فصل خربوزہ ان کے پاس آیا تو اس نے اس کی قاشیں کاٹ کر حضرت لقمان کو دیں تو انہوں نے اسے بڑے شوق سے کھایا پھر ایک اور دی اور اسے بھی بڑے شوق سے کھا یا آخر اس شخص کو بھی یہ خیال آیا کہ بڑے ہی مزے کی یہ چیز ہوگی جسے لقمان اتنے مزے اور شوق سے کھاتا ہے۔جب اس نے خود ایک قاش لے کر منہ میں ڈالی تو وہ نہایت تلخ تھی اس نے کہا لقمان یہ تو بڑی تلخ اور کڑوی ہے تم اسے اس مزے اور شوق سے کھا رہے ہو تو حضرت لقمان نے جواب میں کہا کہ جس کے ہاتھ سے ہزاروں میٹھی چیز میں کھائی ہیں اگر ایک دفعہ کڑوی اور تلخ کھالی تو کون سا حرج ہو گیا سے۔اس شخص کے احسانات حضرت لقمان پر اتنے کیا ہوں گے لیکن انہوں نے اس کی ایسی قدر کی کہ اس کی دی ہوئی تلخ شے کو بھی میٹھا سمجھ کر کھا لیا۔پھر خدا تعالیٰ کے اس قدر احسانات کے ہوتے ہوئے بھی جن کا کوئی حساب نہیں مومن کو کس ایمان کا نمونہ دکھانا چاہئے اور اگر کبھی اس کیلئے تکلیف برداشت کرنی پڑے تو کس خوشی سے اس کو قبول کرنا چاہئیے۔پس ہر ایک انسان پر فرض ہے کہ وہ سوچتا ر ہے کہ مجھ میں لقمان کی روح ہے یا شیطان کی۔اگر اس کے اندر لقمان کی روح ہے اور خدا تعالیٰ کی باتوں کو مانے کیلئے ہر وقت تیار ہے اور کسی وقت اس کے احکام میں اپنے آپ کو سرکش نہیں پاتا بلکہ ہر وقت ہر رنج و راحت پر صبر کرنے والا ہے تو وہی کامیاب اور مظفر و منصور ہو سکتا ہے والا وہ اپنے ایمان پر بھروسہ نہ کرے اس کا ایمان اسی وقت کام آ سکتا ہے جبکہ وہ ہر حالت میں خدا تعالیٰ کی مرضی پر راضی ہو اور اگر وہ اپنے ایمان پر بھروسہ کرے گا تو وہ ایمان ضرور اسے نامرادی کا منہ دکھائے گا۔اس وقت تو ایمان لانے کیلئے خدا تعالیٰ نے بڑی آسانیاں کر دی ہے ہیں اور جو دقتیں صحابہ کے وقت میں تھیں اب وہ نہیں اُس وقت تو ایمان لانے کے واسطے بڑی بڑی وقتوں اور مصیبتوں کو برداشت کرنا پڑتا تھا اور ایمان لانے پر تلوار چلتی تھی۔اس وقت نہ تو تلوار ہے اور نہ جانوں کی قربانی کرنی پڑتی ہے۔صحابہ با وجود ان سب مشکلات اور مصائب کے ابتلاء کا نام نہیں لیتے تھے اور ایسے مصائب اور مشکلات کے ہوتے ہوئے بھی انہوں نے کبھی