خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 509

خطبات محمود جلد ۴ ۵۰۹ سال ۱۹۱۵ ء حضرت مولوی صاحب! مجھے روک دیا کرتے تھے؟ وجہ یہی ہے کہ انسان جب اعتراض کرتا ہے تو اپنی بات کو منوانے کیلئے خواہ مخواہ ادھر ادھر سے دلائل دینے شروع کر دیتا ہے خواہ ناحق پر ہی ہو۔پھر وہ انسان ہمیشہ اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ایسے ہی جب کفار سے پوچھا جاتا کہ تم ایسی باتیں کیوں کرتے ہو تو کہ دیتے كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ نہیں جی ! ہم تو یونہی مشق کے طور پر ذرا باتیں کر رہے تھے تو خدا تعالیٰ نے اس پر ان کو سخت ڈانٹ دی اور کہا قُلْ أَبِاللهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ۔کیا خدا اور اس کے آیات اور اس کا رسول ہی استہزاء ہنسی کیلئے رہ گئے ہیں تم اپنے والدین ، دوستوں، پیاروں سے کیوں تمسخر اور استہزاء نہیں کرتے؟ صرف اس لئے کہ وہ قابل عزت اور کسی قدر ظاہری دباؤ رکھتے ہیں۔کیا کوئی شخص ڈپٹی کمشنر یا گورنر یا کسی بڑے آفیسر کے سامنے استہزاء کرتا ہے کیوں نہیں؟ صرف اس لئے کہ اس کا ظاہری ادبی ملحوظ رکھنا پڑتا ہے یا ان کا ڈر ہوتا ہے۔جب ان کے سامنے کسی کی مجال نہیں تو پھر وہ خدا جو تمہارا مالک ہے اس سے اور اس کی آیات اور اس کے رسول سے تمسخر کرتے ہو اور اس سے نہیں ڈرتے۔لا تَعْتَذِرُوا سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس فعل کا نتیجہ ہے اور اسی وجہ سے ان لوگوں کے متعلق ایسا خطرناک فتویٰ دیا گیا ہے۔در حقیقت یہ فتویٰ انتہائی درجہ کا ہے اور یہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ لوگ ابتداء اس نے کی جڑھ کو نہیں کاٹتے۔جب انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کو چھوڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔جن لوگوں کو ہنسی اور استہزاء کی عادت ہو جاتی ہے ان کی روحانی ترقی نہیں ہو سکتی۔خشیت اللہ بالکل جاتی رہتی ہے استہزاء کرنے والا شخص خواہ کیسی ہی مضبوط چٹان پر کیوں نہ ہو وہ پھسل جاتا ہے۔ایک دفعہ ہمارے کچھ مبلغ ایسی جگہ گئے تو وہاں پر وہ بطور مشق احمد بیگ والی پیشگوئی کے متعلق مباحثہ کرنے لگے۔ایک کہنے لگا کہ حضرت صاحب اس آیت کے مصداق تھے۔دوسرا کہنے لگا نہیں آپ تو اس کے مصداق نہیں تھے وہ جن کی اصلاح کیلئے گئے تھے ان میں سے دو شخصوں نے خیال کیا کہ یہ تو یونہی بات بنی ہوئی ہے اس میں تو کچھ حقیقت نہیں آخر وہ دونوں مرتد ہو گئے اور انہیں اس سے ابتلاء آ گیا۔اب جن کی وجہ سے ان کو ابتلاء آیا یہ گناہ ان کے سر پر پڑے گا کہ ان کی وجہ سے وہ پھر گئے اور پھر جو ان کو دیکھ کر مرتد ہوں گے ان کی سزا بھی ان کو ملے گی۔