خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 498

خطبات محمود جلد ۴ ۴۹۸ (9+) اصل مقصد اور مدعا کے حصول کی خاطر مصائب کی پرواہ نہ کرو (فرمودہ۔۱۲ نومبر ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔يُبَنِي اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَآخِيْهِ وَلَا تَايْنَسُوا مِن روح الله « إِنَّهُ لَا يَايُنَسُ مِن روح اللهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ پھر فرمایا:۔بہت سی باتیں اور بہت سے مطالب و مدعا ایسے ہیں جن کے حاصل کرنے سے انسان کو بعض راحتیں ، آرام اور خوشیاں پہنچتی ہیں۔پھر اس کام کو کرتے کرتے درمیان میں ایک اور خوشی حاصل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے انسان اس خوشی کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اسی کی طرف لگ جاتا ہے اور اپنے اصل مدعا کو بھول جاتا ہے۔اور بعض وقت ایک کام کو پورا کرنے میں اس قدر ابتلاء اور روکیں آجاتی ہیں۔جن کے پیش آنے سے انسان ہمت ہار کر بیٹھ جاتا ہے اور اس مدعا کو حاصل کرنے سے نا امید ہو جاتا ہے وہ مصائب و ابتلاء جو انسان کے راستہ میں آتے ہیں انسان کو چاہیے کہ ان کی طرف متوجہ نہ ہو اور ان کی پرواہ نہ کرے۔بعض انسان اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ ان مصائب کی پرواہ نہیں کرتے اور اپنے مطلب و مدعا کے حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں اور کسی ابتلاء اور مصیبت کو کچھ نہیں سمجھتے۔لوگ ایسے ہوتے ہیں ان کو لوگ پاگل کہتے ہیں، مجنون اور دیوانہ کہتے ہیں لیکن وہ کبھی اپنے مقصود و مد دو مدعائی کو حاصل کرنے سے نہیں رکھتے اور نہ کسی کی ملامت کی کچھ پرواہ کرتے ہیں۔