خطبات محمود (جلد 4) — Page 459
خطبات محمود جلد ۴ ۴۵۹ سال ۱۹۱۵ء ٹھہر ٹھہر و اسنوسنو تم غلطی کرتے ہو وغیرہ وغیرہ لیکن اگر ایک بے علم اور بے کس خطیب بھی ہو تو اس کے سامنے ایک عالم فاضل چپ سنتا رہے گا کیوں؟ اس لئے کہ آنحضرت سلی لا یہ تم نے منع فرمایا ہے اور خطبہ میں کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہے! اور چونکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت مصلی یہ تم کیلئے فرمایا ہے کہ جو کچھ یہ کہیں ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرو ۲۔اس لئے یہ خدا ہی کا حکم ہے۔غرض یہ ایک بڑی لطیف مجلس ہے اس سے بہتر اور عمدہ اور کونسی مجلس ہو سکتی ہے۔تمام وہ ضروریات قومی جن کا لوگوں کے کانوں تک پہنچانا اور جن میں جماعت کی مدد اور مشورہ کی ضرورت ہوتی ہے اس میں بتائی جاسکتی ہیں۔اس کیلئے نہ ایجنڈا تیار کرنا پڑتا ہے نہ ٹکٹ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کلرک ملازم رکھنے پڑتے ہیں۔ایک مقررہ وقت پر سب لوگ خود بخو دا کٹھے ہو جاتے ہیں اور انہیں وہ بات پہنچادی جاتی ہے اور پھر اس مجلس میں جو بات شروع ہوتی ہے کسی کی مجال نہیں کہ ایک لفظ بھی زبان سے نکال سکے۔دوسری مجلسوں میں ایک اور بات بھی ہوا کرتی ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی ایک کھڑا ہو جائے تو پندرہ ہیں بولنے لگ جاتے ہیں کہ بیٹھ جاؤ! بیٹھ جاؤ! پھر جب ان کی آوازیں نکلتی ہیں تو پچاس ساٹھ انہیں چپ کرانے کیلئے بول پڑتے ہیں۔اس طرح سارے ہی بولنے لگ جاتے ہیں اور ایک شور قیامت برپا ہو جاتا ہے لیکن اس مجلس کیلئے آنحضرت سلایا یہی تم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی بولے بھی تو اسے چپ کرانے کیلئے بولو نہیں بلکہ اشارہ سے منع کر دو ۳ یعنی اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو بھی کوئی اس بات کا مجاز نہیں کہ اپنی زبان سے لفظ نکالے تا کہ اس طرح شور پیدا نہ ہو۔تو یہ کیسی با امن مجلس ہے اور پھر اس مجلس کی یہ خوبی ہے کہ ناغوں کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ بلا ناغہ ہوتی ہے اور ہر جمعہ کو ہوتی ہے اور سب مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس میں شامل ہوں۔غرض جمعہ کا خطبہ ایک بہترین موقع ہے۔جماعت کو اس کی ضروریات سے مطلع کرنے اور اہم اور قابل مشورہ امور سے آگاہ کرنے کا۔مسلمانوں پر یہ اسلام کا بہت بڑا احسان ہے اور کون سے احسان کم ہیں۔مگر جماعت بندی اور جماعت کے کاموں کو احسن طور پر چلانے کیلئے یہ بہت بڑا احسان ہے۔دنیا کے اور کسی مذہب نے جماعت کو جماعت بنانے کیلئے اور قومی کاموں کو اس خوش اسلوبی سے انجام دینے کیلئے ایسی کوئی تجویز نہیں کی۔صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے یہ ایک ایسا طریق بتایا ہے کہ اگر مسلمان اس پر چلیں تو ان کی تمام ضروریات حل ہوسکتی ہیں۔غرض جمعہ کا خطبہ