خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 458

خطبات محمود جلد ۴ ۴۵۸ سال ۱۹۱۵ء سکیں گے جو تمہارے دل میں ہے اس لئے تم خدا کے حضور گنہ گار شہر و گے اور اخلاقی رنگ میں بھی مجرم ہو گے۔تو چونکہ ہر ایک کا یہی خیال ہوتا ہے اس لئے سارے کے سارے شور مچاتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی کی بھی نہیں سنی جاتی اور یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں کہ اگلی میٹنگ میں یہی بات پھر پیش ہو۔تمام انجمنوں اور کمیٹیوں میں اسی طرح ہوتا ہے حتی کہ تمام حکومتوں کی پارلیمنٹوں کا بھی عموما یہی حال ہے کہ لوگ چیختے چلاتے اور شور مچاتے رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض دفعہ وزراء کو تنگ آکر بحث کا وقت مقرر کرنا پڑتا ہے۔اور ایک مقررہ وقت کے بعد لوگوں کے شور کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ووٹ لے لئے جاتے ہیں لیکن باوجود اس کے جب وزراء اٹھ کر کوئی بات سناتے ہیں تو شور پڑ جاتا ہے۔کوئی کہتا ہے تم جھوٹ کہہ رہے ہو، کوئی کہتا ہے کہ چپ ہو جاؤ، کوئی کہتا ہے بیٹھ جاؤ۔غرض دنیا کی انجمنوں اور کمیٹیوں کا برا حال ہوتا ہے۔اول تو ان میں کوئی بات سنانے کا موقع ہی کم ملتا ہے اور اگر ملے تو اتنے سنانے والے ہوتے ہیں کہ سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔اور اگر کوئی سنانے والا کھڑا ہو جائے تو اس پر راؤں اور اعتراضوں کی وہ بوچھاڑ ہوتی ہے کہ بیچارہ آدھی تقریر بھی نہیں کر سکتا۔مسلمانوں پر خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل ہے کہ ہر ہفتہ میں ایک ایسی نماز رکھ دی ہے جس میں شہر اور اس کے ارد گرد کے لوگوں کا شامل ہونا فرض ہے۔اس کیلئے کوئی ضرورت نہیں کہ سیکرٹری لوگوں کے آگے لجاجت اور منت سماجت کریں۔ایجنڈے نکلیں اور کلرک قلمیں گھسائیں اور پھر بھی مجلس ملتوی ہو جایا کرے۔بس ایک آدمی خواہ مسافر ہی ہو جب پکار کر کہتا ہے حَى عَلَى الصَّلوة تو چاروں طرف سے جن لوگوں کے کانوں میں یہ آواز پڑتی ہے بھاگتے چلے آتے ہیں اور ایک جگہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔پھر سب اکٹھے ہو کر اس انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کچھ سنیں اور ایک آدمی آتا ہے اور سنانا شروع کر دیتا ہے اب یہ کمیٹی شروع ہوئی۔دوسری کمیٹیوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ ایک آدمی سنانا شروع کر دیتا ہے اور دوسرے شور مچاتے رہتے ہیں۔لیکن اس کمیٹی میں وہی لوگ جو دوسری کمیٹیوں میں شور مچاتے تھے، ان میں سے کوئی بھی نہیں بول سکتا۔کیوں؟ اس لئے کہ شریعت کا حکم ہے کہ خطبہ میں بولٹ نہیں چاہیئے۔دنیا میں سلطنتوں کے وزیر جو لاکھوں کروڑوں انسانوں کی ہمدردی اپنے ساتھ رکھتے ہیں جب تقریر کرنے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو ایسی آواز میں آنی شروع ہو جاتی ہیں کہ