خطبات محمود (جلد 4) — Page 441
خطبات محمود جلد ۴ ۴۴۱ سال ۱۹۱۵ء لیکن اگر اسے معلوم ہو کہ نہیں ہوگی تو نہیں جائے گا۔متقی کے واسطے یہ باتیں ہیں اور ایسی ہیں کہ ایک دم کیلئے اگر ان کو چھوڑ دے تو جھٹ اس کا ایمان گر جاتا ہے۔کوئی کہے کہ اب ان کی ضرورت نہیں تو خدا تعالیٰ سے دور کیا جائے گا۔نماز اور صدقہ کو چھوڑنے سے پہلی حالت قائم نہ رہے گی، قرآن پر ایمان نہ لانے سے ذلیل ہو جائے گا کیونکہ شریعت کے جتنے احکام ہیں وہ ایسے ہیں جو سب انسانوں سے ہر وقت تعلق رکھتے ہیں اور بار بار کئے جاتے ہیں۔اس سے اللہ تعالیٰ نے اس طرف متوجہ کیا ہے کہ کامیاب وہ انسان ہو سکتا ہے جو ہر وقت لگا رہے مسلمانوں کی نمازیں ایسی نہیں کہ کچھ پڑھ کر چھوڑ دیں۔صدقہ و خیرات ایسا نہیں کہ ایک دو دفعہ کیا اور پھر چھوڑ دیا بلکہ جس دن سے کوئی مسلمان ہوتا ہے اس سے لے کر مرنے کے دن تک یہ باتیں ساتھ ہی رہتی ہیں۔اس سے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ جتنے کام خدا کیلئے ہوتے ہیں وہ اس طرح کے ہوتے ہیں۔پس ہمارے کاموں پر سال پر سال گزریں تو ہمیں پہلے سے زیادہ جوش اور استقلال دکھانا چاہیئے کیونکہ ہم تو اس انسان کی امت ہیں جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِن الأولى سے تیری ہر آنے والی گھڑی پچھلی سے اچھی ہے۔پس پچھلے سال اگر کسی کو کسی نیک کام کرنے کی تو فیق ملی تھی تو اب اسے یہ خیال ہونا چاہئیے کہ اگلے سال اس سے زیادہ توفیق ملے اور اگر کوئی پچھلے سال کی نسبت سست ہو جاتا ہے تو گویا آنحضرت سلام کے اتباع سے ہٹتا ہے کیونکہ خدا تو فرماتا ہے وَلَلْآخِرَةُ خَيْرُ لكَ مِنَ الأولى اور دوسری جگہ فرماتا ہے لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ کہ اگر تمہیں کوئی کام کرنا ہو تو رسول کی پیروی سے کرو۔پس ہماری ہر گھڑی پہلی سے اچھی اور ہر سال پہلے سال سے اچھا ہونا چاہیئے۔اور جو کچھ پچھلے سال کیا اس پر یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ بہت خدمت کر لی ہے بلکہ یہ خیال ہونا چاہئیے کہ پچھلے سال ہم ایک سیڑھی چڑھے تھے اور ایک اب چڑھیں گے۔اس لئے ہے بڑھ کر کام کرنا چاہیئے ہمیں اور نہیں تو جواری سے ہی سبق لینا چاہیئے۔جواری جس قدر مال ضائع کرتا ہے اتنی ہی کھیلنے کی اور تڑپ اس کو پیدا ہوتی ہے۔مگر ہم تو مال ضائع نہیں کرتے بلکہ بیج بوتے ہیں۔جواری تمام مال کے خرچ ہو جانے تک ہمت نہیں ہارتا۔ہندوؤں میں تو بعض اپنی بیویاں بھی ہار دیتے ہیں کہ شاید اب کچھ آجائے۔ایک مومن کی ہمت کم از کم جواری سے تو بڑھ کر ہونی چاہئیے۔کیونکہ جواری جس کو کوئی آسمانی