خطبات محمود (جلد 4) — Page 429
خطبات محمود جلد ۴ ۴۲۹ سال ۱۹۱۵ رسول اللہ زندہ ہیں تو ار کسی کی کیا پرواہ ہے۔۵ جب ایک اعلی درجہ کی چیز محفوظ ہے تو اس پر ادنی درجہ کی چیزوں کے قربان ہو جانے کا کیا رنج ؟ یہ ایک عورت کا گردہ ہے۔اس کے مقابلہ میں آج کل کے لوگ جو بڑے صوفی بنتے ہیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں ان کی عورتوں کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی چھوٹا بچہ مرجائے تو شور مچا دیتی ہیں۔مگر اس کا خاوند باپ بھائی مارا جاتا ہے اور وہ کہتی ہے کہ اگر رسول اللہ زندہ ہیں تو کوئی پرواہ نہیں۔تو آنحضرت سلی یہ تم کی ایسی تاثیر تھی کہ جس نے دلوں کو بدل دیا تھا اور ایسا کر دیا تھا کہ جس کی نظیر نہیں مل سکتی۔موت ان لوگوں کے لئے کوئی حقیقت نہ رکھتی تھی۔اسی طرح ان کے اخلاق کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ان کی بھی کوئی نظیر نہیں۔تعلیم ایسی اعلیٰ کہ بے مثل۔غرضیکہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو عزت سے تعلق رکھتی ہو اور آنحضرت مال شما یہ تم کو نہ ملی ہو۔اور پھر ایسی کوئی چیز بھی نہیں کہ کوئی نبی بھی اس کا مقابلہ کر سکے۔تو آنحضرت ﷺ اس قدر عزت والے انسان ہیں۔اس کے متعلق تم نے کبھی اپنے نفس میں غور کیا ہے کہ آپ کو کس طرح یہ عزت ملی۔کیا اس کیلئے آپ نے بڑی بڑی کوششیں کیں۔منصوبے باندھے ، تدبیریں کیں یا اس کیلئے لوگوں سے لڑائی جھگڑا کرتے تھے۔آپ کے بڑے بڑے دشمن گزرے ہیں جنہوں نے آپ کے سارے کام کو فریب اور منصوبہ قرار دینے میں بڑاز در مارا ہے۔کیونکہ اس کی بجائے وہ یہی اقرار کرتے ہیں کہ یہ شخص سب سے زیادہ دنیا کی عزت سے بھاگنے والا نظر آتا ہے۔لیکن باوجود اس کے آپ اوپر ہی اوپر بڑھتے جاتے تھے۔تو آپ کی تمام عزت کا راز تدبیروں ، کوششوں اور منصوبوں میں نہ تھا بلکہ اس میں تھا کہ آپ جس قدر دنیا سے دور بھاگتے تھے، اتنے ہی بڑھائے جاتے تھے۔آپ جس طرح دینی عزت میں تمام انسانوں سے ممتاز ہیں اسی طرح دنیوی عزت میں کی بھی ہیں۔لیکن چونکہ اس میں جھگڑا ہے اس لئے میں اسے نظر انداز کر دیتا ہوں۔ورنہ دنیاوی لحاظ سے بھی آپ کی وہ شان وشوکت ہے کہ اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔لیکن جس قدر آپ بڑے تھے آپ کی عبادات ، افعال اور معاملات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اسی قدر دنیا سے نفرت کرنے والے تھے۔اس زمانہ میں بہت بڑی عزت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملی حتی کہ آپ کی عزت کی بلندی کے اظہار کیلئے قرآن شریف میں آپ کی نسبت یہ قرار دیا کہ آخَرِيْنَ مِنْهُم -1-