خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 34

خطبات محمود جلد ۴ ۳۴ سال ۱۹۱۴ء چھوڑ دیا اور مومنین کو چھوڑ دیا اور اب سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم ان کو ہلاک کر دیں گے۔یہ ایسا ہر گز نہیں کر سکتے بلکہ انہوں نے اپنی ہی جانوں کو ہلاکت میں ڈال دیا لیکن یہ سمجھ نہیں سکتے اور ان کو معلوم نہیں ہوتا۔ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسوں سے تمہارا کوئی تعلق نہیں۔وہ خدا کو بھی اور مومنوں کو بھی چھوڑتے ہیں ان کے دلوں میں ایمان نہیں اور نہ ہی ان کو حقیقی طور پر خدا کا ڈر ہے۔جس شخص کے دل میں حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کا ڈر اور اس کی عظمت ہو تو وہ اوروں سے نہیں ڈرتا۔ان منافق لوگوں کے دل میں لوگوں کا ڈر ہے۔یہ سمجھتے ہیں کہ اگر فریقین سے ہم تعلق نہیں رکھیں گے تو ہم دکھوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔حالانکہ انسان کو ہمیشہ اس بات کا خیال رہتا ہے کہ کسی ایسے سے اس کی عداوت یا لڑائی نہ ہو جو اس کے آقا کا دوست ہو یا آقا اس کی عداوت کی وجہ سے ناراض ہو۔بلکہ ایسے موقعہ سے حتی الوسع انسان بچتا ہے اور اس شخص سے دوستی رکھتا ہے جو اس کے آقا کا دوست ہو اور آقا کے دشمن سے یہ دشمنی رکھتا ہے۔انسان تو انسان کتے بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔جن لوگوں کو یہ دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ ہمارے مالک کے پاس آتے ہیں اور اس کے دوست ہیں ان کو تو کچھ نہیں کہتے اور جس کو یہ دیکھیں کہ یہ کبھی ہمارے مالک کے پاس نہیں آیا تو وہ اگر آوے تو اسے بھو سکتے ہیں اور اسے کاٹنا چاہتے ہیں۔جب کتنے کا یہ حال ہے کہ جب اس کے مالک سے کسی کا تعلق ہو تو وہ اسے نہیں کا شتا تو جب انسان اللہ تعالیٰ سے جو خالق و مالک اور احکم الحاکمین رب العالمین ہے اپنا تعلق پیدا کر لے گا تو ضرور وہ ہر بلا سے محفوظ رہے گا اور اسے کوئی تکلیف نہ ہوگی اور اسے کسی موذی چیز سے ایذاء نہ پہنچے گی۔حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے“ جب طاعون پڑی تو اس وقت سے پہلے یہ الہام آپ کو ہوا تھا۔پہلے آپ کو دکھلایا گیا تھا کہ طاعون اس طرح تباہ کرے گی اور اس طرح نافرمانوں کو ہلاک و برباد کرے گی۔اس سے انسان کو ڈر ہوسکتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ہمیں بھی اس سے گزند پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے یعنی ہم تمہیں طاعون سے بچاویں گے بلکہ تمہارے غلاموں اور ان کے غلاموں کی بھی حفاظت کریں گے تو جب حاکم راضی ہو تو ی ماتحت خود بخو د راضی ہو جاتا ہے۔اس پر غور کرنے سے کھلتا ہے کہ کیونکر انسان تمام قسم کے خوفوں سے محفوظ