خطبات محمود (جلد 4) — Page 410
خطبات محمود جلد ۴ ۴۱۰ سال ۱۹۱۵ء حکم ہو تو گردن اڑا دیں۔یہ کبھی نہیں دیکھا جائے گا کہ انہوں نے کہا ہو کہ فلاں حکم کے متعلق آپ کو الہام ہوا ہے یا نہیں۔ایسا کہنے والے تمام وہی لوگ ہوں گے جن کو آنحضرت صلی سیستم کی صحبت نصیب نہیں ہوئی یا منافقوں کے کی جماعت کا کوئی ہوگا اور بعد میں بدوی لوگ ہوں گے۔تو نبی کے حکم کے متعلق الہام کا سوال کرنا ایسے ہی ہے لوگوں کا کام ہے جن کو دین کی واقفیت نہیں یا جن کے ایمان مضبوط نہیں۔اگر رسول کے ہر ایک حکم کی اطاعت کرنا ضروری نہیں تو خدا تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا ہے کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللہ۔اگر رسول کے اس حکم کو ماننا تھا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعہ آئے۔تو یوں کہنا چاہیئے تھا کہ ہم جو نے حکم دیتے ہیں اس لئے دیتے ہیں کہ لوگ اس کو مانیں۔رسول کی اطاعت پر زور دینا ثابت کرتا ہے کہ یہ اطاعت اس اطاعت کے علاوہ ہے جو رسولوں کے الہامات میں ہوتی ہے یہاں جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے مَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ الله - اس سے رسول کے احکام کی اطاعت مراد ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو اس بات سے بہت ہوشیار رہنا چاہئیے۔یہ ایک سخت گستاخی کا کلمہ ہے اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہیئے۔اور باتیں جانے دو تم لوگوں نے کم از کم یہ تو بیعت میں اقرار کیا ہوا ہے کہ امر بالمعروف کی اطاعت کریں گے اب دو ہی باتیں ہیں ایک یہ کہ حضرت مسیح موعود کا ہر ایک حکم معروف ہے دوسرے یہ کہ نہیں۔اگر نہیں تو ماننا پڑے گا کہ خدا نے ایسا مسیح موعود بھیجا ہے جس کو امر بالمعروف کا بھی پتہ نہیں۔اور اگر اس کے احکام امر بالمعروف ہیں تو ان کی تکمیل کرو تم نے بیعت کرتے وقت یہ شرط نہیں کی تھی کہ ہم آپ کی صرف وہ بات مانیں گے جو آپ الہام سے کہیں گے اور یہ ناممکن ہے کہ نبی امر بالمعروف کے خلاف کوئی بات کہے۔یہ جو شرط ہے کہ ہم امر معروف میں اطاعت کریں گے صرف خدا کے ادب کے لئے ہے جیسا کہ حضرت شعیب نے کفار سے کہا ہے وَمَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُودَ فِيهَا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ ر بناتے کہ میں تمہارے مذہب کو قبول نہیں کر سکتا مگر جو اللہ چاہے ( حالانکہ نبی کیلئے غیر ممکن ہے کہ وہ کفار کا مذہب اختیار کرے ) تو یہ شرط خدا تعالیٰ کی شان اور جبروت کے لئے رکھی جاتی ہے۔ورنہ نبی کوئی بات امری بالمعروف کے خلاف نہیں کرتا۔پس وہ شخص جو کہتا کہ فلاں بات مسیح موعود نے الہام سے کہی ہے یا نہیں اسے یاد