خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 399

خطبات محمود جلد ۴ ۳۹۹ سال ۱۹۱۵ لا ہور جیسے مقام میں جہاں سینکڑوں وکیل ہیں کسی وکیل کا کالج سے نکل کر پریکٹس شروع کرنا اور پھر سب وکیلوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل جانا بہت مشکل کام ہے اس لئے جب کوئی وکالت شروع کرتا ہے تو کسی ایسے مقام پر چلا جاتا ہے جہاں چھوٹے چھوٹے وکیل ہوں اور جب وہاں اس کی شہرت ہو جاتی ہے تو مشہور جگہ پر آجاتا ہے کیونکہ مقابلہ میں قدم جمنا بہت مشکل ہوتا ہے۔تو قرآن شریف دنیا میں اس وقت بھیجا گیا جب کہ مذہبی پہلوان بہت سے موجود تھے اور ان کے بڑے بڑے دعوے تھے بڑی بڑی جماعتیں اور کی بڑی بڑی کتابیں تھیں ایسے وقت میں اسلام کا دعویٰ اور صرف دعوئی ہی نہیں بلکہ چیلنج دینا کہ آؤ مقابلہ کرو، ایسا دعوی ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی۔اپنے اپنے مذہب کا پر چار کرنا الگ بات ہے۔مثلاً عیسائیت جب آئی تو حضرت مسیح کے مقابلہ میں صرف یہود تھے اور ساری دنیا سے ان کا مقابلہ نہ تھا۔چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام یہی کہتے رہے کہ میں سوروں کے آگے موتی نہیں ڈالتا۔کوئی اپنے بچے سے روٹی چھین کر اوروں کو نہیں دیتا وغیرہ وغیرہ۔غیر قوموں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو بلایا بھی لیکن انہوں نے نہ مانا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ میں صرف بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا ہوں اگر میں نے کسی اور قوم کی طرف توجہ کی تو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکوں گا۔عیسائیت کی تبلیغ ساری دنیا کو کی گئی مگر اس وقت جبکہ حضرت مسیح " نہ رہے اور اصل عیسائیت میں بہت کچھ تغیر و تبدل ہو گیا۔تو ایک ایسے درخت میں جو کھلے میدان میں آگے اور ترقی کر جائے اس درخت سے جسے بڑے درختوں کی جڑوں میں لگایا جائے اور جو ان کو اُکھاڑ کر پھینک دے بہت فرق ہے۔یہی فرق اسلام اور عیسائیت میں ہے۔اسلام اُس وقت دنیا کے سامنے پیش کیا گیا جب کہ اس نے ابتداء میں ساری دنیا کو مقابلہ کا چیلنج دے دیا۔لیکن مسیحیت ایک خاص قوم تک محدود رہی۔اور اگر باقی دنیا کی طرف اس نے رخ بھی کیا تو اس وقت جبکہ ایک جماعت پیدا ہو چکی تھی۔غرض قرآن مجید ایسے زمانہ میں آیا جس میں سب مذاہب پھیلے ہوئے تھے۔اس نے آکر سب کو چیلنج دیا کہ آؤ مقابلہ کر لو اور معت ابلہ بھی معمولی نہیں بلکہ یہ کہا کہ الم ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَهِما رَزَقْنَهُمْ يُنفِقُونَ میں ایک ایسے خدا کی طرف سے آیا ہوں جس کے علم کا معت ابلہ کوئی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اَعْلَمُ ہے معت اللہ تو الگ رہا۔لَا يُحِيطُونَ بِشَيْئ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ اس