خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 397

خطبات محمود جلد ۴ ۳۹۷ سال ۱۹۱۹ء پس یہ مہینہ خدا کے فضلوں کا مہینہ ہے اس سے جس قدر ہو سکے فائدہ اٹھالو۔جس طرح بہت سے ایسے انسان ہیں جن کو یہ رمضان دیکھنا نصیب نہیں ہوا اسی طرح بہت ایسے ہوں گے جنہیں اگلا رمضان دیکھنا نصیب نہ ہوگا اور کون جانتا ہے کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جنہوں نے نہیں دیکھنا اس لئے ہر ایک کو اس رمضان میں خیر حاصل کرنے کی خوب کوشش کرنی چاہیئے۔ہماری جماعت کوئی دنیاوی سوسائٹی نہیں اس لئے اس کے افراد کا فرض ہے کہ جہاں وہ اپنی اولاد، اپنی مشکلات، اپنے رشتہ داروں اور اپنی دیگر اغراض کیلئے دعائیں کریں گے اور اگر اخلاص سے کریں گے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب بھی ہو جائیں گے وہاں سلسلہ کی ترقی کیلئے بھی کریں۔کیونکہ جو بچے سلسلے اور راستبازوں کی جماعتیں ہوتی ہیں ان کا پہلا فرض اپنی جان و مال کی حفاظت کرنا نہیں ہوتا بلکہ جماعت کی ترقی اور کامیابی کیلئے کوشاں رہنا اور راستی اور حق کی اشاعت کرنا ہوتا ہے پس ہمارے تمام دوستوں کو چاہیے کہ جہاں وہ اپنی ذات، اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کیلئے اس ماہ میں دُعائیں کریں، ان سب سے پہلے اس بات کو مد نظر رکھ کر ان کی دعائیں ہوں کہ سب سے زیادہ دعاؤں اور التجاؤں کا مستحق اسلام ، راستی اور حق ہے کیوں؟ اس لئے کہ کسی کو جو دعاؤں کی توفیق ملے گی تو کس ذریعہ سے۔اسلام ہی سے۔کیا ایسے کروڑوں انسان نہیں کہ ان پر رمضان آتا ہے اور گز ربھی جاتا ہے لیکن وہ کورے کے کورے ہی رہتے ہیں۔پس دعائیں کرنے والوں کو یہ موقع اسلام اور آنحضرت صلی الہام کے ذریعہ اور اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے توسل سے حاصل ہوا ہے اس نے لئے ان کا پہلا فرض ہے کہ اسلام کی اشاعت کیلئے دعائیں کریں۔میں کہنا تو بہت کچھ چاہتا تھا لیکن ریزش کی وجہ سے ڈر ہے کہ حلق کی بیماری جور و بصحت ہے بڑھ نہ جائے ، اس لئے اسی پر ختم کرتا ہوں۔البقره: ۱۸۴ (الفضل ۲۵۔جولائی ۱۹۱۵ء) البقرة : ۱۸۶ بخاری کتاب الصوم باب وجوب صوم رمضان کے مسلم کتاب الصوم فضل الصيام و بخاری کتاب الصوم باب هل يقول اني صائم اذا ستم