خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 379

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء إلَى الرَّفِيق الاعلی سے یعنی اے خدا مجھے اب دنیا کی زندگی پسند نہیں آپ ہی کے پاس آنا چاہتا ہوں ادھر تو یہ حال تھا ادھر ایک صحابی آپ کی وفات کے متعلق فرماتے ہیں۔كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُى کہ تو ہماری آنکھ کا نور تھا جب تو جاتا رہا تو اب کوئی مرے ہمیں کیا ہماری طرف سے ساری دنیا مر جائے۔پس آخری اور اعلیٰ درجہ کی موت یہ ہے کہ انسان کی اس سے زندگی ہو اور دنیا کی موت ہو۔ایک شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے کہتا ہے :۔انْتَ الَّذِي وَلَدَتْكَ أَمُّكَ بَاكِيَا وَالنَّاسُ حَوْلَكَ يَضْحَكُونَ سُرُورًا فَاحْرِصْ عَلَى عَمَلٍ تَكُوْنَ إِذَا بَكَوْ في وَقْتِ مَوْتِكَ ضَاحِكًا مَسْرُورًاه کہ اے انسان کو وہی ہے کہ جب تو پیدا ہوا تھا تو تو رو تا تھا اور لوگ ہنتے تھے اب تو ایسے عمل کر کہ جب تجھے پر موت کا وقت آئے تو لوگ روئیں اور تو ہنسے۔لوگ تو اس لئے روئیں کہ یہ شخص ہمارے لئے ایک مفید وجود تھا اب اس کے نہ ہونے کی وجہ سے نقصان ہوگا اور تو اس لئے ہنسے کہ اب میں خدا کے حضور پہنچ کر انعام پاؤں گا۔اس طرح بات اُلٹ گئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُفتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ الا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ۔کہ مختلف موتیں دنیا میں آتی ہیں مومن کو چاہیئے کہ تقویٰ میں اس حد تک بڑھے کہ ولا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ۔جب تم پر موت وارد ہو تو تم مسلم ہو۔مسلم کیا ہوتے ہیں منقاد مطیع اور فرمانبردار کو کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم پر موت آئے تو تم اللہ کی فرمانبرداری میں لگے ہوئے ہو۔غور کرنے کی بات ہے کہ جب کسی کو اللہ تعالیٰ کے کام میں لگے ہوئے ہونے کی حالت میں موت آئیگی تو اس کے لی لئے کتنی خوشی کی موت ہوگی۔پھر مسلم کی تعریف آنحضرت ملا ہی تم نے یہ فرمائی ہے کہ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِه - دوسری جگہ فرمایا لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لنفسه - 1 اس وقت تک کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی بات پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے۔تو مسلم کی تعریف میں دو باتیں ہوئیں ایک یہ کہ اس سے کسی کو نقصان نہ پہنچے دوسری یہ کہ اپنے نفس کو جتنا فائدہ پہنچانا چاہتا ہے اتنا ہی دوسروں کو بھی پہنچائے۔ایسا انسان جب مرے گا تو اس کی موت اسی اعلیٰ درجہ کی