خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 342

خطبات محمود جلد ۴ ۳۴۲ (۶۷) صرف خدا تعالی ہی عالم الغیب ہے (فرموده ۷۔مئی ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء حضور نے تشہد، تعوّ ذاور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةً إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضَ وَلَا يَعُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ اللہ تعالیٰ کی ہستی چونکہ نظر نہیں آتی اور اس کی ذات چونکہ وراء الور ی ہے اس لئے کوئی انسان ان مادی آنکھوں سے اسے نہیں دیکھ سکتا جس قدر لطیف چیزیں دنیا میں ہوتی ہیں وہ نظر نہیں آتیں۔پھر خدا تعالیٰ تو ان لطیف چیزوں کے پیدا کرنے والا ہے اس لئے ان آنکھوں سے اس کا نظر آنا تو ناممکن ہے۔کسی شاعر نے کیا لطیف بات کہی ہے۔کہتا ہے ؎ جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا یعنی اگر کہیں دُوئی کا معاملہ ہوتا تو کبھی اس سے ملاقات ہو جاتی لیکن چونکہ وہ یگانہ ہے دوسری چیزوں کی اس کے مقابلہ میں کچھ ہستی نہیں ، کوئی اس کا ہمسر ہی نہیں اور کوئی اس کی ذات کا حصہ اور جنس ہی نہیں ہے اس لئے اس سے ملاتا ت بھی نہیں ہوتی۔جب اس کا یہ حال ہے تو جو اس کی مخلوق اور اس کی پیدا کردہ چیزیں ہیں ان کی آنکھوں سے وہ کہاں نظر آ سکتا ہے۔پس خدا تعالیٰ ان آنکھوں سے کسی کو دکھائی نہیں دیتا بلکہ اپنی قوت اور اپنے جلال اور اپنے