خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 320

خطبات محمود جلد ۴ ۳۲۰ سال ۱۹۱۵ء دینے میں کوئی عذر نہیں ہوسکتا۔میں نے یہ آیت اس لئے پڑھی ہے کہ ہمارے سپر د بھی اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک کام کیا ہے اور وہ یہ کہ تمام دنیا اسلام کے مٹانے میں پورا پورا زور لگا رہی ہے گویا اسلام ان کے نزدیک ایسا ہے جس کے گھر میں سانپ نکل آتا ہے اور سارے اس کے مارنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔یا وہ اسلام کو نَعُوذُ باللہ ) گند اور نجاست سمجھتے ہیں اور جس طرح ایک پاک انسان نہیں چاہتا کہ اس کے کپڑوں کو نجاست لگے اس طرح ( نَعُوذُ بِاللهِ ) دنیا اسلام کو بجھتی ہے اس لئے جو کوئی بھی ہے وہ اسلام کے مٹانے میں لگا ہوا ہے۔ہمارے سپر د خدا تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کی ہے۔لیکن اس زمانہ میں ہمارا مقابلہ تلوار سے نہیں ہے کیونکہ آنحضرت سلیم کی پیشگوئی ہے کہ اس زمانہ میں تلوار کی لڑائی مذہب کیلئے موقوف ہو جائے گی۔پس اس زمانہ میں جو اسلام کیلئے تلوار اٹھائے گا اور تلوار سے اسلام کے مخالفوں کا مقابلہ کرنا چاہے گا وہ اسلام کی حفاظت کرنے کی بجائے خود ذلیل ہو جائے گا۔پس اس وقت اسلام کی حفاظت کا ایک ہی جائز ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر کر دیا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ہم تحریر سے ، تقریر سے اور دعاؤں سے دشمنوں کا مقابلہ کریں۔پس یاد رکھو کہ اِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ گیا تالبُونَ۔اگر ہمیں اپنا وقت، اپنا مال اور اپنی محنت خرچ کرنی پڑتی ہے اور بہت سے کاموں کا نقصان کر کے دین کیلئے قربانیاں کرنی پڑتی ہیں تو یہ ہمارے دشمنوں کو بھی کرنی پڑتی ہیں۔عیسائیوں میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ انہوں نے اپنے مذہب کی اشاعت کیلئے روپیہ جمع کرنے کیلئے اچھی اچھی چیزیں کھانی چھوڑ دیں تا کہ اس طرح روپیہ بیچ رہے حالانکہ دنیا کی نظروں میں ان کا مذہب ایک غالب مذہب نظر آتا ہے اور پھر وہ بڑے بڑے مالدار بھی ہیں۔جب اس قوم کا یہ حال ہے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ اس قوم کو کیا کرنا چاہیئے جو دنیا کے نزدیک ایک کمزور قوم ہے۔دیکھو جب ایک تندرست انسان اپنے بچاؤ کیلئے بچاؤ کرتا اور نقصان رساں چیزوں سے پر ہیز کرتا ہے تو ایک بیمار کیلئے تو بہت ہی ضروری ہے کہ وہ بہت زیادہ پر ہیز کرے کیونکہ وہ تو پہلے ہی بیمار ہے۔پس دنیاوی تکلیفوں اور قربانیوں میں تم اور وہ برابر ہو لیکن ایک بات جو تم میں ہے وہ ان میں نہیں ہے اور وہ یہ کہ تمہارے ساتھ جو خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں اور تمہیں جو خدا تعالیٰ سے امیدیں ہیں وہ انہیں نہیں ہیں، اس لئے تمہارے لئے