خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 23

خطبات محمود جلد ۴ ۲۳ سال ۱۹۱۴ء ہوئی نعمتوں کو اس کے رستے میں خرچ کرتے ہیں اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کتا بیں قرآن کریم سے پہلے اُتریں اور جو اس کے بعد الہام ہوں گے ان پر اور قیامت پر ایمان اور یقین رکھتے ہیں۔متقیوں کو یہ کتاب راستہ دکھلاتی ہے۔اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ یہ کتاب جو پہلے ہی سے متقی ہے اس کو تو راستہ دکھلاتی ہے لیکن دیگر عوام الناس کیلئے پھر کونسی تعلیم ہے جو ان کی راہ نمائی کرے، کتاب تو وہ چاہئیے جو سب کی یکساں راہ نمائی کرے۔اس قسم کے اعتراض کرنے والوں نے تدبر سے کام نہیں لیا۔اگر وہ سوچتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ ہر ایک انسان جب اس سے پوچھا جائے کہ آپ کیا ہیں تو وہ اپنا اعلیٰ سے اعلیٰ دعوی ہی پیش کرے گا نہ کہ پہلے ادنی درجوں کو گنے بیٹھ جائے اور بعد میں بتلائے کہ میں یہ ہوں۔مثلاً اگر کوئی کسی تحصیلدار سے سوال کرے کہ آپ کون ہیں تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ میں پہلے پٹواری یا گرد اور تھا۔پھر نائب تحصیلدار پھر اب تحصیلدار ہوں بلکہ وہ یہی کہے گا کہ میں تحصیلدار ہوں۔اسی طرح جب کوئی کسی ڈاکٹر سے سوال کرے کہ آپ کون ہیں تو کیا وہ پہلے یہ کہے گا کہ میں نے پہلے پرائمری پھر مڈل پھر انٹرنس پاس کر کے پھر میں نے ڈاکٹری کی جماعت پڑھی اور اب میں ڈاکٹر ہوں۔اسی طرح اگر کوئی ایم۔اے سے پوچھے تو وہ پہلے ہی آپ کو ایم۔اے بتلائے گا نہ کہ جماعتیں گننے بیٹھے گا۔اسی طرح قرآن کریم کی تعلیم ہے یہ ہر ایک کو ہدایت دے سکتی ہے خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا یا کسی طرح کا ہو۔میدان مذاہب میں اسلام نے بھی اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔اس پر یہ سوال ہوسکتا تھا کہ تمہاری کیا خصوصیت ہے جو ہم تمہیں اختیار کریں۔دکانوں والے اپنی دکانوں کے سامنے سائن بورڈ لگا دیا کرتے ہیں اور وہ اس پر اپنی اپنی خصوصیات لکھ دیتے ہیں۔کوئی لکھتا ہے کہ یہاں سے مال عمدہ اور ارزاں ملے گا۔کوئی لکھتا ہے یہاں سے دیسی مال مل سکتا ہے۔کوئی لکھتا ہے کہ یہاں سے اعلیٰ درجہ کا اور دیر پاولایتی ہے مال ملے گا۔غرض اسی طرح ہر ایک کوئی نہ کوئی اپنی خصوصیت لکھ دے گا۔گا ہک بھی کسی خصوصیت کی وجہ سے ہی وہاں آئے گا۔اسی طرح مذاہب میں جھگڑا ہے۔ہر ایک اپنے آپ کو سچا کہتا ہے۔اسلام میں کونسی خوبی ہے کہ جو یہ ایک نیا مذہب پیش کیا جاتا ہے۔کوئی ایسی خوبی ہونی ضروری ہے جو پہلے مذاہب میں سے کسی ایک میں بھی نہ ہو۔اگر پہلے مذاہب اور اسلام میں کوئی فرق نہ ہو تو کسی کو کیا ضرورت ہے کہ