خطبات محمود (جلد 4) — Page 296
خطبات محمود جلد ۴ ۲۹۶ سال ۱۹۱۵ء میں کیا فرق ہے۔سرسید کے وقت دنیا انگریزی تعلیم کیلئے بے تاب ہورہی ہے اور سرسید اٹھ کر کہتا ہے کہ تعلیم حاصل کرو اس پر دنیا لبیک کہتی ہے۔مسٹر گو کھلے کے وقت اہل ہند حقوق حاصل کرنے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ آؤ حاصل کریں اس لئے لوگ ان کے ساتھ ہو گئے اور ایسا ہونا بھی تھا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو یہ کہا کہ دین کو دنیا پر مقدم کرو۔یہ اس وقت کہا جبکہ ہر طرف سے اس کے خلاف ثبوت مل رہے تھے۔قدیم وجدید کا فلسفہ کہتا تھا کہ الہام کا نام نہ لو۔مسلمان مولویوں نے فیصلہ کر دیا تھا کہ الہام کا دروازہ بند ہو گیا ہے لیکن آپ نے کہا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام پا کر کھڑا ہوا ہوں اور مجھ پر خدا اپنی وحی نازل کرتا ہے۔آپ نے اس آزادی اور خود مختاری کے زمانہ میں کھڑے ہو کر کہا کہ میرے ماننے کے بغیر کسی کی نجات نہیں ہو سکتی۔سو آپ نے وہ بات کہی جس کے خلاف دنیا چل رہی تھی۔آپ کے اور دوسرے لوگوں کے کاموں میں یہی فرق ہے کہ ان کا کام جلتی آگ پر تیل ڈالنا تھا اور آپ کا کام جلتی آگ پر پانی ڈالنا۔اس زمانہ میں دنیا کی محبت گرم ہو رہی تھی اور دین کی سرد۔ان لوگوں نے دین کی محبت کو اور سرد کر دیا اور ہے دنیا کی محبت کو زیادہ گرم کر دیا لیکن آپ نے دنیا کی محبت کو سرد کیا اور دین کی محبت کو گرم۔پس یہی ان کے کاموں نے میں عظیم الشان فرق ہے۔جب کوئی خدا تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ آتا ہے تو شیطان طرح طرح کی تدبیروں سے لوگوں کو دنیا کے بہاؤ کی طرف چلانا چاہتا ہے لیکن وہ اس کے خلاف دوسری طرف لوگوں کو لے جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لوگوں کو دنیا سے چھڑا کر دین کی طرف متوجہ کیا۔شیطان لوگوں کو کہتا ہی رہا کہ اگر تم اس کی بات مانوں گے تو ذلیل اور حقیر ہو جاؤ گے دنیا میں ترقی نہیں کر سکو گے لیکن خدا تعالیٰ نے اس کی کوششوں کو نا کام کردیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام ہی کو ترقی ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم شیطان کے کاموں کو مٹا دیتے ہیں۔آج ہمارے زمانہ میں بھی شیطان نے وہی کام اختیار کیا ہے جو ہمیشہ حقانیت اور سچائی کے مقابلہ میں کرتا آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جماعت کو کھڑا کیا تھا۔شیطان نے اس پر ایسے زور کا اور سخت حملہ کیا کہ آج تک اس نے نہ کیا تھا۔اس نے بہت زور لگایا کہ لوگ خدا کی طرف نہ جائیں لیکن خدا پرست لوگوں نے اس کی ایک نہ مانی اور اسے نا کام اور نا مراد کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بہت عرصہ بعد اگر آپ کی جماعت پر غلو کرنے کا الزام لگایا