خطبات محمود (جلد 4) — Page 283
خطبات محمود جلد ۴ ۲۸۳ سال ۱۹۱۵ء طالب علم سیپارہ پڑھنا شروع کر دے تو وہ ہرگز اسے یاد نہیں کر سکتا۔لیکن جب وہ تھوڑے تھوڑے حروف یاد کر لیتا ہے پھر اس کیلئے ایک دن میں کتاب ختم کر لینا بھی آسان ہو جاتا ہے۔غرضیکہ انسان کی ترقی کیلئے خدا تعالیٰ نے اس کے اندر کچھ قو تیں رکھی ہیں مگر شریر اور گندہ انسان انہی قوتوں کو استعمال کر کے شرارت اور بدکاری کیلئے تیار ہو جاتا ہے اور اس طرح بڑھتا جاتا ہے۔تھوڑے دن ہوئے ایک شخص نے مجھ سے فتویٰ پوچھا کہ اگر ایک انسان صغیرہ گناہ کر کے کبیرہ سے بچ جانے کی امید رکھتا ہو تو کیا صغیرہ گناہ کر لینا جائز ہے۔میں نے اسے یہ جواب لکھایا کہ صغیرہ گناہ بنیاد ہے کبیرہ گناہ کی جو صغیرہ کرے گا ضرور ہے کہ وہ کبیرہ بھی کرے اس لئے کبیرہ سے بچنے کیلئے صغیرہ گناہ کر لینا ہرگز جائز نہیں۔کیونکہ اس طرح تو دو گناہ ہو جائیں گے، صغیرہ تو کبیرہ سے بچنے کیلئے کیا جائیگا اور کبیرہ صغیرہ کا نتیجہ ہوگا۔تو جس طرح انسان الف - با - تا وغیرہ پڑھنے سے قاعدہ، سپارہ اور قرآن پڑھنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے اسی طرح صغیرہ گناہ کبیرہ گناہ کیلئے تیار کرتا ہے۔دیکھو جس طرح چھلانگ مار کر کوٹھے پر پہنچنا مشکل امر ہے اسی طرح ایک پاک انسان کا کبیرہ گناہ کر نا بھی مشکل ہے لیکن مکان پر چڑھنے کیلئے جو شخص سیڑھی پر پہلا قدم رکھ لیتا ہے وہ بہ نسبت پہلے کے اپنے آپ کو چھت کے قریب کر لیتا ہے۔یہی حال صغیرہ گناہ کرنے والے انسان کا ہے وہ بھی اپنے آپ کو اس طرح کبیرہ گناہ کیلئے تیار کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ تمہیں معلوم ہے یہ شریر لوگ بدکاریوں میں کیوں مبتلاء ہوتے اور بڑھتے جاتے ہیں؟ اس لئے کہ جو کچھ یہ کرتے تھے اس نے ان کے دلوں کو جکڑ لیا ہے۔پس تم یاد رکھو کہ بہت لوگ غلطی سے ایک گناہ کو چھوٹا گناہ اور ایک نیکی کو چھوٹی نیکی سمجھتے ہیں لیکن نہ کوئی گناہ چھوٹا گناہ ہے۔اور نہ کوئی نیکی چھوٹی نیکی ہے کیونکہ ہر چھوٹا گناہ بڑے گناہ کیلئے تیار کرتا ہے۔اور ہر چھوٹی نیکی بڑی نیکی کیلئے مستعد کرتی ہے۔اس اصول کو اچھی طرح سمجھ لو کہ ایک نیکی خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو دوسری نیکی کے حاصل کرنے کو آسان کرتی ہے۔اور ایک بدی خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو دوسری بدی کے کروانے کو آسان بناتی ہے۔پس نیکیوں اور بدیوں کا معاملہ اسی طرح پر ہے جس طرح کسی کا چھت پر چڑھنا۔چھت پر بغیر سیڑھی کے نہیں چڑھا جاتا اور جو پہلی سیڑھی پر چڑھ جاتا ہے وہ چھت کے کچھ نزدیک اور قریب ہو جاتا ہے۔وہ انسان جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے یہ کہے کہ میں چھوٹا گناہ کر لوں تا کہ