خطبات محمود (جلد 4) — Page 20
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء ایک جسم اور دوسرا روح جسم کا حصہ کچھ تو بچپن میں گذر جاتا ہے آگے پھر کوئی ۲۵ - ۳۰ سال ہوش کے رہتے ہیں اور وہی عمدہ حصہ شمار ہوتا ہے ، پھر بڑھا پا آ جاتا ہے افسوس ہے کہ اس مدت قلیل میں انسان اپنی بہتری و بهبودی کیلئے اور اپنے آرام کیلئے کوئی تدبیر نہ کرے۔جس انسان کو دیکھو وہ اگر کسی تکلیف میں ہو تو اس کی وجہ قرآن کریم کی مخالفت ہی ہے اور اگر وہ کسی سکھ میں ہے تو اس کی وجہ قرآن کریم پر عمل کرنا ہی ہے۔سود کا نظارہ دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم سود سے باز نہیں آتے تو فَأَذَنُوا بِحَرب تین اللہ یہ تو اللہ تعالیٰ سے لڑائی کرنا ہے تو تم پھر اللہ سے لڑائی کیلئے تیار ہو جاؤ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سود میں کچھ حرج نہیں ہے اور اس کے بغیر دنیا تباہ ہوتی ہے اور اس کے سوا کام نہیں چل سکتا لیکن قرآن شریف میں تو یہ آیا ہے کہ لاریب فیه یعنی اس کتاب میں ہلاکت کی تعلیم نہیں ہے تو گویا یہ کہنے والے کہ سود کے بغیر کام نہیں چل سکتا اور دنیا ہلاک ہوتی ہے وہ قرآن کریم کی تعلیم کو جھوٹا قرار دیتے ہیں اور ان کو قرآن کریم پر ایمان نہیں ہے۔لوگ تجارت اور سود کو برابر بتلاتے ہیں وَاَحَل اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرَّبوا ھی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام ٹھیرایا ہے۔اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حرمت سود و حلت بیع پر دلیل نہیں دی۔حالانکہ جب ڈاکٹر ایک چیز سے منع کرتا ہے تو وہ ضرور مضر ہوگی۔اور اگر وہ کسی چیز کو جائز قرار دیتا ہے تو وہ ضرور فائدہ مند ہوگی۔پس اللہ جس چیز کو حرام قرار دیتا ہے وہ ضرور ہی ضرر رساں ہوگی پس یہی دلیل ہے۔بینکوں کے معاملے کو دیکھ لو اور ان کے دیوالے نکلنے سے معلوم کر لو اس سے بخوبی ثابت ہو جائے گا کہ تجارت اور سود ایک چیز نہیں کیونکہ ایک بینک کے ٹوٹنے سے دوسرے کئی بینک اس وجہ سے ٹوٹ گئے کہ ان کا نی آپس میں سودی لین دین تھا۔دوسرے بے اعتباری ہونے پر امانتداروں نے اپنا روپیہ واپس لینا شروع کرتی دیا۔اگر کسی تجارتی کوٹھی کو نقصان پہنچتا تو اس کا نتیجہ یہ ہر گز نہ ہوتا بلکہ ایک دکان جاتی رہنے سے بہت سی دکا نیں فروغ پا جاتی ہیں کیونکہ ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ تھا۔الغرض سانپ چاہے کیسا ہی خوبصورت ہو اور بچہ اسے پکڑنا چاہے لیکن والدین بچے کو اس بات سے روکتے ہیں اور اسے سانپ کے نزدیک بھی نہیں جانے دیتے۔پس خدا جو خالق ہے وہ اپنی مخلوق کو تباہ کیوں ہونے دے۔اس نے ہمیں