خطبات محمود (جلد 4) — Page 264
خطبات محمود جلد ۴ ۲۶۴ سال ۱۹۱۵ء چاہیے کہ اس آگ کے وقت اپنے نفس کی شرارتیں اور برائیاں گرا دے تاکہ محفوظ ہو جائے۔پس تم بہت دعاؤں سے کام لو۔بیماریاں تو ہوا ہی کرتی ہیں لیکن طاعون عذاب کے طور پر ہے اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخالفوں کے لئے ہے۔ہماری جماعت کو اس سے بہت ڈرنا چاہیئے۔تم خاص طور پر دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اور خصوصا قادیان میں رہنے والوں کو اس سے محفوظ رکھے۔مصیبت اور عذابوں سے بچنے کیلئے صدقہ ایک عمدہ چیز ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔دنیا میں گورنمنٹ رعایا کے بچاؤ کے سامان کرتی ہے اگر کہیں آگ لگ جائے تو فائر بریگیڈ کے پانی کے نلکے لے جا کر آگ بجھا دی جاتی ہے۔خدا تعالیٰ نے بھی روحانی آگ کے بجھانے کے لئے سامان کیا ہوا ہے اور وہ صدقہ ہے۔دنیا میں جس کے گھر آگ لگتی ہے وہ فورا فائر بریگیڈ کے محکمہ میں اطلاع دیتا ہے۔اسی طرح انسان کو چاہیئے کہ جب خدا کے غضب کی آگ لگی ہوئی دیکھے تو صدقہ کرنا شروع کر دے۔اس سے فائر بریگیڈ کی طرح ہی آگ بجھ جاتی ہے۔اس میں حکمت ہے اور وہ یہ کہ ہر ایک انسان یہ پسند کرتا ہے کہ اس سے تعلق رکھنے والی چیز میں ایسے لوگوں کے ماتحت ہوں جو نرم دل ہے ہوں۔باپ ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا نرم دل اور رحم کرنے والے استاد کے سپر د ہو اور کبھی وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے لڑکے کا استاد ظالم اور بد خو ہو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ جو ماں باپ سے زیادہ انسانوں سے تعلق رکھنے والا ہے وہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اس کی مخلوق جابر اور ظالم سے دکھ میں رہے۔تو جب انسان صدقہ دے کر خدا کی مخلوق سے نیک سلوک کا اظہار کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ ان پر مہربان ہو جاتا ہے اس لئے صدقہ بہت مفید چیز ہے۔پس تم صدقہ دو۔غرباء اور مساکین کو کھانا اور کپڑے بنوا دو اور دعائیں مانگو کہ جہاں کہیں بھی ہماری جماعت کا کوئی آدمی ہے خدا اسے بچائے اور طاعون ہماری ہلاکت نہیں بلکہ جیسا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے ترقی کا موجب ہو۔الفضل ۱۴۔جنوری ۱۹۱۵ء)