خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 249

خطبات محمود جلد ۴ ۲۴۹ سال ۱۹۱۴ء اور کیونکہ اگر ایک ہی ہوتا تو صحابہ آنحضرت مال یتم سے پوچھ سکتے تھے کہ آپ " تو خدا تعالیٰ کا ہمیں حکم سناتے ہیں اور پھر آپ کس طرح ایسا کرتے ہیں۔تو آج بھی خدا تعالیٰ کا یہ حکم ویسی ہی قدر و منزلت رکھتا ہے۔تمسخر میں کسی کی حقارت اشارہ یا کنایہ منظر ہوتی ہے جو کہ مومن کی شان سے بعید ہے کیونکہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔پھر ہمارے لئے تو بہت ہی خوف و ہراس کے دن ہیں ہمیں کس طرح ہنسی اور مخول سوجھ سکتے ہیں۔جو مصیبت کے دن اس وقت اسلام پر آئے ہیں ان سے بڑھ کر اور کون سے دن آئیں گے۔اس وقت بھی کوئی تمسخر کی طرف متوجہ ہو؟ ایسی حالت میں ان باتوں کی طرف متوجہ ہونا سنگدلی کا ن نتیجہ ہوتا ہے۔آج کل چونکہ ساری دنیا میں محول اور جنسی کا رواج ہو گیا ہے اور بہت زوروں پر ہے،اس لئے بعض مومن بھی ٹھو کر کھا جاتے ہیں لیکن ہر ایک مومن کو چاہیئے کہ جس قدر بھی جلدی ہو سکے اس کو ترک کر دے۔ممکن ہے کہ ایک انسان کے کپڑوں پر ایسی جگہ گزرتے ہوئے جہاں اوپر سے کیچڑ پھینکا جارہا ہو کچھ چھینٹے پڑ جائیں لیکن تم کیا جانتے ہو کہ اس وقت وہ کیا کرتا ہے وہ فورا اپنے کپڑوں کو دھو ڈالتا ہے۔اسی طرح مومن کو چاہیئے کہ اس پر جنسی اور مخول کی گندگی کے کچھ چھینٹے اڑ کر پڑ گئے ہوں تو وہ بہت جلدی ان کو دور کر دے اور اپنے کپڑوں کو پاک وصاف کرلے۔پس تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو ہنسی اور تمسفر کو پگلی چھوڑ دو۔بہت غم اور رنج کا وقت ہے۔اپنے اعمال میں تبدیلی کر لو کیونکہ یہ تکلیفوں کے دن ہیں۔اللہ چاہے تو تم پر خوشی کی حالتیں بھی آجائیں گی مگر تمسخر اس وقت بھی نہیں کرنا ہوگا۔تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے آنے والے انعامات کا اپنے آپ کو مستحق بناؤ۔خدا تعالیٰ تم سب کو توفیق دے کہ تم کسی بھائی کی تحقیر نہ کر وخواہ تمہیں اس میں کیسے ہی نقص نظر آتے ہوں۔خدا تعالیٰ اپنے احکام کی تعمیل کرنے کی ہمیں توفیق دے اور ہم اپنے مرنے سے پہلے پہلے اسلام کی ایسی حالت دیکھ لیں کہ ہماری موت خوشی کی موت ہو۔الحجرات : ١٢ الفضل ۲۴۔دسمبر ۱۹۱۴ء) ، ترمذی ابواب شمائل الترمذی باب ما جاء في صفة مزاح رسول اللہ ﷺ