خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 248

خطبات محمود جلد ۴ ۲۴۸ سال ۱۹۱۴ء کہ اس کی کیا حالت ہے۔پس بڑائی اسی کی ہے جس کو خدا تعالیٰ دے، خود اپنے منہ سے کوئی بڑا نہیں بن سکتا۔تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کر لو اور صداقت اور سنجیدگی میں ترقی کرو تمسخر اور جنسی کو چھوڑ دو۔ایک مزاح ہوتا ہے ہے (جس سے بگڑ کر مذاق بن گیا) وہ الگ بات ہے اس میں اور تمسخر میں بہت بڑا فرق ہے۔تمسخر دوسرے کو ذلیل سمجھ کر اور اسے ذلیل کرنے کیلئے کیا جاتا ہے لیکن مزاح میں کسی کی حقارت اور اس کا راز افشا کر نامد نظر نہیں ہوتا۔انسان کی طبیعت میں ہنسی اور رونا دونوں باتیں رکھی گئی ہیں کبھی انسان ہنستا ہے اور کبھی روتا ہے۔مزاح بھی ہنسی کا ایک طریق ہے۔آنحضرت سلیم نے فرمایا کہ جنسی تو ہم بھی کر لیتے ہیں مگر اس میں جھوٹ نہیں ہوتا۔ایک دفعہ آپ بیٹھے ہوئے تھے۔آپ کے پاس ایک بڑھیا آئی۔اس نے کہا یا رسول اللہ میں کیا جنت میں جاؤں گی؟ آپ نے فرمایا۔بڑھیا تو کوئی جنت میں نہیں جائے گی۔وہ یہ سن کر رو پڑی۔آپ نے فرمایا کہ میرا یہ مطلب نہیں تھا کہ دنیا میں جو بوڑھے ہیں وہ جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ یہ تھا کہ جنت میں سارے جوان ہو کر جائیں گے۔ایک دفعہ آپ کھجوریں کھا رہے تھے اور صحابی بھی ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے اشارہ فرمایا کہ گٹھلیاں حضرت علی کے آگے رکھتے جاؤ۔جب کھا چکے تو آپ نے حضرت علی کو فرمایا کہ تمہارے آگے سب سے زیادہ گٹھلیاں ہیں کیا تم نے سب سے زیادہ کھجوریں کھائیں ہیں۔حضرت علی نے کہا کہ میں گھلیاں پھینکتا گیا ہوں جس کا مطلب یہ تھا کہ جن کے آگے گٹھلیاں نہیں وہ ان کو بھی کھا گئے ہیں۔ایک دفعہ ایک صحابی کھڑا تھا۔آنحضرت سلیلا ہی تم نے پیچھے سے آکر اس کی آنکھیں بند کر لیں۔اس صحابی نے اپنے ماتھا سے آپ کے نرم اور ملائم ہاتھوں کو پہچان لیا اور وہ آپ کے کپڑوں سے اپنے کپڑے ملنے لگ گیا۔آپ نے سمجھ لیا کہ اس نے پہچان لیا ہے فرمایا کہ کیا کوئی اس کو مول لیتا ہے۔اس نے کہا کہ مجھے کون مول لے سکتا ہے۔نبی کریم صلی یا سیستم نے فرمایا نہیں خدا اور اس کے رسول کے نزدیک تمہاری بے شمار قدر و قیمت ہے۔۳ تو ایک نبی اپنی امت کے لوگوں سے ایک خلیفہ اپنی جماعت سے ایسی باتیں کر سکتا ہے اور کرتے ہوئے شرماتا نہیں۔مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِّن قوم کہ تمسخر نہیں کرنا چاہئیے۔اس سے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مزاح اور ہے تم