خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 227

خطبات محمود جلد ۴ ۲۲۷ سال ۱۹۱۴ء ہے اس لئے انسان کو اس جگہ پیچھے رکھا۔اللہ تعالیٰ یہ کھیتوں کے نظارے اور گزری ہوئی قوموں کی باتوں کی نسبت فرماتا ہے کہ ان میں بڑے نشانات ہیں۔یہ دو آیتیں جو میں نے پڑھی ہیں ان میں خدا تعالیٰ نے ایک نہایت لطیف مضمون کی بیان فرمایا ہے۔انسانوں کے تنزل کے دو ہی سبب ہوا کرتے ہیں۔ایک استغناء کہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں کسی کی پرواہ نہیں ہے۔ایسے لوگوں کی نسبت فرمایا۔اَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسْكِيهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لأيتِ أَفَلَا يَسْمَعُونَ تم کو کیوں پرواہ نہیں ہے۔تم سے کئی پہلی قوموں نے اسی طرح کہا تھا اس لئے وہ تباہ و برباد ہوگئیں۔تم ان کے تباہ ہونے سے نصیحت حاصل کرو۔دوسر اسبب نا امیدی ہوتا ہے۔ایسے لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم کیا کریں ہم سے تو کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ان کی نسبت فرمایا: - أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنْفُسُهُمْ۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ کیسی بنجر زمین ہوتی ہے۔اس میں جب ہم پانی ڈالتے ہیں تو کھیتی پیدا ہو جاتی ہے۔ہم جب خشک زمین سے سرسبز کھیتی پیدا کر سکتے ہیں تو کیا ہم تمہارے دلوں میں کچھ نہیں اُگا سکتے ، ضروراً گا سکتے ہیں۔تو یہاں خدا تعالیٰ نے ان دو تنزلوں کے سببوں کو توڑ دیا ہے۔تم لوگوں نے بھی دونوں نظارے دیکھتے ہیں۔ایک تو ان نظاروں کو قرآن شریف میں پڑھا ہے پھر یہی نظارے تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں کیونکہ تمہارے زمانہ میں ایک خدا تعالیٰ کا مامور آیا۔جس کا جن لوگوں نے انکار کیا، خدا نے تمہارے سامنے ان کو ذلیل کر دیا۔قادیان آتے ہوئے راستہ میں بٹالہ ہے وہاں محمد حسین ہی کو دیکھ لو۔سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اسی نے کفر کا فتوی لگا یا تھا۔اُس وقت اس کی بہت عزت ہوتی تھی۔مگر آج اس کو دیکھو کہ کس حالت میں ہے۔پھر بہت سی بستیاں مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے تباہ ہو چکی ہیں۔تو تم نے یہ نظارے سنے اور پڑھے ہی نہیں بلکہ آنکھوں سے دیکھے بھی ہیں۔پھر ایک انسان کو تمہارے دیکھتے دیکھتے خدا تعالیٰ نے کامیاب کر کے دکھا دیا۔اور لاکھوں انسانوں کی جماعت پیدا کر دی۔تم نے نہ پہلی تباہ شدہ قوموں کا حال پڑھا ہے بلکہ اس زمانہ میں دیکھ لیا ہے اور تمہارے سامنے کھیتیوں میں پانی برسنے اور ان کے اُگنے کے ہی نظائر نہیں ہیں بلکہ تم نے ایک ایسا کامل انسان دیکھ لیا ہے جس پر خدا نے اپنے فضل کا مینہ برسایا اور