خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 226

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء نے دیکھا نہیں کہ کس طرح ہم پانی لاتے ہیں۔اور ایک بے برگ و گیاہ زمین جس میں سبزی کا نام ونشان بھی نہیں ہوتا ، پانی پڑنے کی وجہ سے اس میں سے کس طرح کھیتیاں اُگ آتی ہیں۔کیا یہ دیکھ کر بھی ان لوگوں کو ہدایت نہیں آتی۔اور یہ اس بات سے خوش نہیں ہوتے کہ ان کیلئے بھی ہم نے سامان بنائے ہوئے ہیں۔اور نبی ان سامانوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔تو کیسے سرسبز ہو جاتے ہیں۔حضرت زکریا نے حضرت مریم سے جب وہ بچہ تھیں پوچھا۔کہ یہ کھانا کہاں سے آیا ہے تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔اس کہنے کا حضرت زکریا پر اتنا اثر ہوا کہ اسی جگہ دعا کی کہ اے الہی ! مجھے بھی اولاد د بیجئے تا کہ میں بھی اسی طرح کی باتیں اس سے سنوں ۲۔تو یہ نبیوں کا کام ہوتا ہے کہ ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز کو دیکھ کر بھی فائدہ حاصل کر لیتے ہیں۔مگر جو لوگ کوئی فائدہ حاصل نہیں کرتے ان کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ أوَلَمْ تُمَكِّن لَّهُمْ حَرَمًا امِنَا تُجْلَى إِلَيْهِ ثَمَرَتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقَا مِن لَّدُنَاس کہ تم بھی اس سے انکار نہیں کر سکتے تم پر تو بہت بڑھ کر فضل کیا گیا ہے کہ تمام دنیا کے پھل تمہارے پاس کھنچے چلے آتے ہیں۔لیکن پھر تم ہر روز دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے۔اور سنتے ہوئے نہیں سنتے۔اس قسم کی مخلوق بڑی قابل رحم ہوتی ہے۔اور یہ بڑے دکھ میں پڑی ہوئی ہوتی ہے۔تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنْفُسُهُمْ میں خدا تعالیٰ نے ایک بہت ہی لطیف ترتیب رکھی ہے انعام پہلے رکھا ہے اور انفس کو پیچھے کہ کھیتوں سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور یہ خود بھی کھاتے ہیں۔حالانکہ انسان پہلے ہونا چاہیئے تھا کیونکہ سب چیزیں انسان کے لئے ہی بنائی گئی ہیں۔دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلے رکھا ہے اور چوپاؤں کو پیچھے فرمایا ہے۔فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلى طَعَامِةِ أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبَّا ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبا وَقَضْبًا وَزَيْتُونَا وَنَخَلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَابًا مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں قرآن شریف نے ایک قاعدہ کلیہ بیان کر دیا ہے کہ دنیا کی ہر ایک چیز انسان کیلئے ہے اور اسی کے فائدے کے لئے بنائی گئی ہے اور واقعہ میں چونکہ انسان خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہے اس لئے ہر ایک چیز اسی کیلئے پیدا کی گئی ہے۔تو یہاں انعام سے پہلے انسان چاہئے تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے پہلے ہی رکھا لیکن کھیتی میں سے چوپائے انسان سے پہلے کھاتے ہیں اور انسان تو کھیتی پک جاتی ہے تب اس میں سے کھاتا