خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 204

خطبات محمود جلد ۴ ۲۰۴ (۴۵) حج کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور صلحاء امت کیلئے بہت دعائیں کرو (فرموده ۳۰۔اکتوبر ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء حضور نے تشہد، تعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اگر جس حساب سے ہماری عید ہے اسی حساب کے مطابق مکہ میں عید ہوئی تو وہاں آج حج کا دن ہے۔لاکھوں لاکھ آدمی کوئی کسی قوم کا کوئی کسی ملک کا، ایک دوسرے کی رسم و رواج، ایک دوسرے کی زبان، ایک دوسرے کی عادتوں، ایک دوسرے کی خواہشوں، ایک دوسرے کی اُمنگوں سے ناواقف ایک بہت بڑے وسیع میدان میں جمع ہوں گے اور نہ صرف ان کے سامنے یہ نظارہ ہوگا کہ دنیا کے کن کن کونوں میں خدا تعالیٰ نے اسلام کو پھیلا یا۔بلکہ یہ بھی ہوگا کہ اس بے برگ و گیاہ جنگل میں (جہاں ایک مشک پانی کی روپیہ دے کر بھی بمشکل ہاتھ آتی ہے ) کہاں کہاں سے لوگ آئے ہیں یہ عجیب منظر دیکھ کر ہر انسان کے دل میں عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے۔اور اسلام کی سچائی کا بہت بڑا ثبوت ملتا ہے کہ اس جنگل اور وادی غیر زرع میں ایک بلند ہونے والی آواز جس کو غیر تو الگ رہے اپنے بھی نہیں سنتے تھے اور آواز دینے والے کو جھڑک دیتے تھے، وہی آواز تمام دنیا کے کونوں تک پہنچ کر آج ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے اجتماع کا باعث ہوئی ہے۔تمام وہاں جانے والے انسانوں کے پیش نظر یہ نظارہ ہوتا ہے کہ کہاں محمد (صلی سایتم ) پیدا ہوئے اور اس نے ایسی آواز بلند کی جو گونجتی گونجتی ہمارے دور دراز ملکوں میں پہنچی اور وہ اپنے اندر ایسی کشش رکھتی تھی کہ