خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 191

خطبات محمود جلد ۴ ۱۹۱ سال ۱۹۱۴ء کر دیتے ہیں۔بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک ایسی بات مسیح کی حیات پر پڑھ دیتے ہیں جس کا کوئی مطا نہیں ہوتا۔لیکن وہ یہی کہے چلے جاتے ہیں کہ اس سے حیات مسیح ثابت ہوتی ہے۔ایک مرحوم دوست کو یہ واقعہ پیش آیا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کے دعوئی سے پیشتر براہین احمدیہ کے پڑھنے کی وجہ سے اخلاص رکھتا تھا۔جب آپ نے دعوی کیا تو وہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ تو بڑے متقی ہیں یہ کیا دعویٰ قرآن کے خلاف کر دیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو دھوکا لگا ہے۔تو آپ نے فرما یا اگر قرآن سے یہ بات غلط ثابت کر دو تو میں مان لوں گا۔اس نے کہا کہ میں حیات مسیح کی بیسیوں دلیلیں قرآن شریف سے آپ کو دکھا سکتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ ایک ہی لاؤ۔اس کی دوستی محمد حسین بٹالوی سے بھی تھی۔وہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ مرزا صاحب تو بڑے نیک آدمی ہیں انہوں نے میری بات مان لی ہے اور جھگڑا بالکل طے ہو گیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک ہی آیت قرآن سے حیات مسیح کی نکال دو تو میں مان لونگا۔بس آپ مجھے کچھ آیات نکال کر دیجئے تا کہ میں ان کو جا کر بتاؤں۔مولوی محمد حسین یہ سن کر اسے گالیاں دینے لگ گیا اور کہا کہ تم وہاں کیوں گئے تھے۔آخر کار جب مولوی محمد حسین نے باوجود اس کے اصرار کے ایک دلیل بھی قرآن شریف سے نہ بتائی تو اس نے سمجھ لیا کہ کوئی دلیل ہے ہی نہیں اس لئے اُس نے آکر بیعت کر لی۔تو یہ لوگ قرآن سے کوئی دلیل نہیں بتا سکتے۔لیکن اگر یہ سوال پوچھا جائے تو فورا کہہ دیتے ہیں کہ قرآن شریف کے خلاف ہے۔اگر پوچھو کہ قرآن کی کس آیت کے خلاف ہے تو کہتے ہیں کہ فلاں تفسیر میں لکھا ہے فلاں مولوی صاحب کہتے ہیں تو یہ لوگ اپنی طرف سے بات بنا کر خدا تعالیٰ کی کتاب یعنی خدا تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کر دیتے ہیں تا کہ لوگ غور اور توجہ سے ان کی باتیں سنیں اور قدر کریں۔عام طور پر احمد یوں کو غیروں سے مباحثات میں یہ دقت پیش آتی ہے اور مجھے خود بھی ایک دفعہ اس بات کا تجربہ ہوا۔حضرت خلیفہ مسیح الاول نے ہم چند آدمیوں کو ایک جگہ لیکچر دینے کیلئے بھیجا۔راستے میں ایک مولوی صاحب سے مباحثہ ہو گیا۔میں نے حافظ روشن علی صاحب کو گفتگو کرنے کے لئے کہا۔حافظ صاحب نے بات چیت شروع کی لیکن وہ مولوی یہی کہتا جائے کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيهِ میں جوہ کی ضمیر ہے وہ کدھر جاتی ہے۔حافظ صاحب نے اس کو کئی دفعہ جواب دیا لیکن وہ بار بار یہی کہتا رہا کہ میرے سوال کا جواب تو ابھی ملا نہیں میں آگے بات کس طرح کروں۔اگر اس کا جواب دے