خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 171

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء قواعد نیچے رہ جاتے ہیں اور کئی بڑی بڑی ہستیاں ان کو روند کر اوپر سے گزرجاتی ہیں۔یا وہ بہت اوپر رہ جاتے ہیں، اس لئے کئی چھوٹی چھوٹی ہستیاں نیچے سے گزر جاتی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ واسع اور محیط گل ہے اور اس کا علم ایک ایک ذرے کا احاطہ کئے ہوئے ہے، وہ خالق ہے، مالک ہے، رازق ہے، اس۔اس کے مقرر کردہ قواعد سے کوئی چیز باہر نہیں جاسکتی۔ان قواعد میں سے جو اس دنیا کے لئے بنائے گئے ہیں ایک قاعدہ ڈھیل کا ہے اور یہ میں نے اس کا نام اپنی زبان میں رکھا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کیلئے ڈھیل کا کچھ میدان مقرر کیا ہوا ہے حکیم اور علیم ہستی کے قواعد کبھی بلا حکمت نہیں ہوتے۔ایک انسان تو کہتا ہے کہ فلاں بات یوں ہو جائے ورنہ یوں ہو جائے گالیکن اللہ تعالیٰ کبھی ایسا نہیں کرتا۔اس نے سب کاموں کے قاعدوں میں مہلت اور ڈھیل کا میدان رکھا ہوا ہے اس کے اندر مختلف تغیرات میں سے انسان گزرتا ہے کبھی اس کی حالت کچھ ہوتی ہے اور کبھی کچھ۔کئی انسان زنا کرتے ہیں۔لیکن ہر ایک کو سزا نہیں ملتی۔اسی طرح کئی انسان نیکیاں کرتے ہیں لیکن ہر ایک نبوت کے درجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔بہت دفعہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی نماز میں روتے روتے گھنٹوں سجدے میں گزار دیتا ہے۔اور اتنی لمبی نماز پڑھتا ہے کہ تمام رات میں دو رکعت ہی ختم کرتا ہے۔لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اس کی اس نماز کی خوبصورتی اور عبادت کی عمدگی کو دیکھ کر یہ کہہ دیں کہ انبیاء کی عبادت سے بڑھی ہوئی ہے۔اسی طرح ایک شخص کفر کے کلمے بگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو گالیاں دیتا ہے اس کی ذات کی طرف گند منسوب کرتا ہے لیکن پھر اسی وقت تباہ نہیں ہو جاتا۔پہلے کی طرح ہی کھاتا پیتا، چلتا پھرتا ، اٹھتا بیٹھتا اور رہتا سہتا ہے۔پھر ایک آدمی کو ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی سخت چیز نگل لیتا ہے جس کو اس کا معدہ ہضم نہیں کر سکتا۔لیکن اسی دن اس کو قولنج نہیں ہو جاتا۔بعض بچے شیشے کے ٹکڑے کھا جاتے ہیں اور نہیں مرتے۔پھر اگر کوئی ایک قطرہ آرسنک ( سنکھیا ) کا پی جائے تو مرتا نہیں یا ایک لقمہ گھی کا کھالے تو موٹا نہیں ہو جاتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ڈھیل کا میدان رکھا ہوا ہے۔ایسا انسان ابھی اسکے اندر ہوتا ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ آج کل کے جنگوں میں تم دیکھ رہے ہو کہ ایک دن لکھا ہوتا ہے کہ جرمن فلاں جگہ سے آگے بڑھے اور دوسرے دن خبر ہوتی ہے کہ پیچھے ہٹادیئے گئے۔ان باتوں کو لڑائی کا فیصلہ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ابھی اس میں ڈھیل ہے اس لئے یہ لڑائیاں میدان جنگ کی کارروائی کا نتیجہ نہیں پیدا کر سکتیں۔اسی طرح انسان کو اس کے اعمال